کیا فرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ طلاق کے بعد مرد کی آمدنی اور شرعی ذمہ داریوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حق مہر کی رقم مطلقہ کو قسطوں میں ادا کی جاسکتی ہے،جبکہ مرد صاحبِ جائیداد نہ ہو اور اس کے پاس یکمشت ادائیگی کیلئے رقم نہ ہو،اور مطلقہ قسطوں میں حق مہر کی وصولی کیلئے راضی نہ ہو،جبکہ مطلقہ کی آمدنی سابقہ شوہر سے زیادہ ہو،صاحبِ جائیداد بھی ہو،برسر روزگار بھی ہو اور بنیادی مالی ضروریات کی تکمیل کیلئے کسی کا محتاج نہ ہو اور خود مختار ہو۔
عورت کا مہر شوہر پر قرض اور دین ہوتا ہے،عورت اس کا مطالبہ یکمشت بھی کرسکتی ہے،قسطوار بھی وصول کرسکتی ہے،البتہ سائل اپنی مجبوری بیوی کے سامنے رکھ کرمناسب قسطیں بنوا سکتا ہے،تاکہ آسانی سے ادا کرسکے۔
کما فی الفتاوی الھندیة: لا خلاف لأحد أن تأجيل المهر إلى غاية معلومة نحو شهر أو سنة صحيح، وإن كان لا إلى غاية معلومة فقد اختلف المشايخ فيه قال بعضهم يصح وهو الصحيح وهذا؛ لأن الغاية معلومة في نفسها وهو الطلاق أو الموت ألا يرى أن تأجيل البعض صحيح، وإن لم ينصا على غاية معلومة، كذا في المحيط اھ (1/318)۔