السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ !ایک شخص کی شادی ہوئی ، شادی سے پہلے لڑکی والوں نے لڑکی کو میک اپ میں دکھایا،بعدازاں رخصتی کے بعد لڑکی کو بغیر میک اپ دیکھا تو یکساں بدلی ہوئی تھی ، اور کافی عرصہ( تقریباً سوا سال )کوشش کرنے کے باوجود جب لڑکے کا دل بیوی کی طرف مائل نہیں ہوا اور میاں بیوی میں اختلاف ہونے لگے کہ شوہر بیوی کو توجہ نہیں دیتا ، بالآخر بات طلاق کو جا پہنچی۔ سوال یہ ہے کہ لڑکی کو شادی کے وقت جو سونا لڑکے والوں کی طرف سے بطور مہر اور اُس کے علاوہ ملا ہے جس کی مالیت دس لاکھ روپے سے زیادہ بنتی ہے، کیا وہ واپس کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے ؟کیونکہ لڑکی والوں کی طرف سے چیزیں چھپائی گئیں (حلیہ بلکل مختلف دکھایا گیا) اور سونے کی قیمت اچھی خاصی بنتی ہے ،رہنمائی فرمادیں ۔
مسئولہ صورت میں بطور مہر لڑکی کو ملنے والا مذکور سونا اس کا حق ہے، جس کی واپسی کا مطالبہ شرعاً جائز نہیں، اسی طرح اس کے علاوہ بھی جو کچھ لڑکے والوں کی طرف سے بطور گفٹ لڑکی کو ملا ہے، اگر انہوں نے یہ چیزیں لڑکی کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دی ہوں ، بطور عاریت (استعمال کے لئے) نہ دی ہوں اور نہ ہی لڑکے والوں کے عرف میں بطور عاریت دینے کا رواج ہو ،تو ایسی صورت میں لڑکی ان تمام چیزوں کی بھی مالک بن چکی ہے، لہذا لڑکے والوں کے لئے لڑکی سے ان چیزوں کی واپسی کا مطالبہ بھی جائز نہ ہوگا ،جس سے انہیں احتراز لازم ہے ،تا ہم شادی سے پہلے لڑکی والوں کا لڑکی کو اس کی بد صورتی چھپانے کے لئے میک اپ میں دکھانا دھوکہ دہی میں داخل ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہوئے ہیں، جس پر انہیں بصد قِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ اس طرح کی دھوکہ دہی سے مکمل اجتناب لازم ہے ۔
كما في السنن الكبرى للبيهقي : عن ابن شهاب، أن زيد بن ثابت رضي الله عنه قال: " إذا دخل الرجل بامرأته فأرخيت عليهما الستور فقد وجب الصداق (باب من قال من أغلق بابا أو أرخى سترا فقد وجب الصداق وما روي في معناه، ج 7، ص 416، رقم : 14480، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
وفي بدائع الصنائع : (وأما) بيان ما يتأكد به المهر فالمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة. الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين، سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط شيء منه بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، أما التأكد بالدخول فمتفق عليه الخ (فصل بيان ما يتأكد به المهر، ج 2، ص 291، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
و فيه أيضا : وأما حكم الهبة (إلى قوله) أصل الحكم ثبوت الملك للموهوب له من غير عوض الخ (ج 6، ص 127، ط : سعيد)-
و في فتح القدير : إن أصحابنا أقاموا الخلوة الصحيحة مقام الوطء في حق بعض الأحكام تأكد المهر وثبوت النسب والعدة والنفقة والسكنى في مدة العدة الخ (باب المهر، ج 3، ص 333، ط : دار الفكر، بيروت)-
و في الدر المختار : (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل الخ (كتاب الهبة ، ج ۵، ص 690 ، ط : سعید)-