السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میرا نکاح ہوا ہے اور نکاح میں 20 ہزار روپے پاکستانی کرنسی رکھی گئی ہے اور ساتھ یہ دو شرائط بھی لکھے گئے ہیں ، پہلا شرط یہ ہے کہ لڑکا ایک کمرہ پختہ مکان ،ساتھ کچن باتھ روم بنائے گا تو تب ہم شادی دیں گے ،دوسری شرط یہ ہے کہ اگر لڑکی ناراض ہو کر میکے چلی گئی تو لڑکےکو 10 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنا ہوگا ، تو مفتی صاحب اس میں رہنمائی فرما دیں کہ یہ دوسری شرط جو ہے کیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟ اور اب لڑکی والوں کے بھائی کہہ رہے ہیں کہ لڑکی کے نام کوئی جائیداد سونا وغیرہ لکھو گےتو تب ہی ہم شادی دیں گے ، جو کہ ابھی نکاح نامے میں درج نہیں ہے،اور لڑکی کا موقف ہے کہ میں شادی کرنے کے لئے راضی ہوں اور مجھے ان سب چیزوں میں سے کچھ بھی نہیں چاہیئے , میں بس بغیر کسی شر ط کےسکون اور سادگی سے اپنی شادی دیکھنا چاہتی ہوں ، براہِ مہربانی مفتی صاحب اس مسئلہ میں ہماری رہنمائی فرما ئیں۔ جزاک اللہ خیراً, بارک اللہ فی الدارین۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر نکاح کے وقت بیس ہزار روپے حق مہر طے ہونے کیساتھ یہ شرط عائد کی گئی تھی”کہ جب شوہر کچن اور باتھ روم سمیت ایک کمرے کے مکان کا انتظام کرلے گا تو شادی(رخصتی)کرائی جائے گی“تو یہ شرط نکاح کےمقتضیٰ کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز اور درست ہے،چنانچہ شوہر کے ذمہ رخصتی سےقبل بیوی کیلئے علیحدہ مکان کا انتظام کرنا لازم اور ضروری ہوگا،لیکن اگر نکاح کے وقت حق مہر فقط بیس ہزار روپے طے ہوا ہو ،اسکے علاوہ بیوی کو حق مہر میں جائیدادیں اور سونے دینے کےمتعلق کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی تو لڑکی والوں کا جائیدادیں اور سونے کے مطالبات کرکے رخصتی میں رکاوٹ ڈالنا درست نہیں،بلکہ اگر شوہر کی طرف سے مکان وغیرہ ضروری امور کا بندو بست ہوچکا ہو اور لڑکے والوں کی طرف سے رخصتی کا مطالبہ بھی ہو تو انہیں رخصتی کرادینی چاہئیے ، جبکہ نکاح نامہ میں جو دوسری شرط عائد کی گئی”کہ اگر لڑکی ناراض ہو کر میکے چلی گئی تو لڑکے کو دس ہزار روپے ماہانہ ادا کرنا ہوگا“اس پر ہر حال میں عمل کرنا لازم اور ضروری نہ ہوگا،بلکہ اگر بیوی بغیر کسی عذر اور شوہر کی طرف سے کمی کوتاہی کے ، ناراض ہوکر میکے بیٹھ جائے تو ایسی صورت شرعاً شوہر کے ذمہ اس شرط کی پاسداری لازم نہ ہوگی۔
کما فی عمدۃ القاری : "عن عبد الرحمن بن غنم قال : شهدت عمر ، رضي الله تعالى عنه ، قضى في رجل شرط لامرأته دارها ، فقال : لها شرطها . فقال رجل : إذا يطلقها؟ فقال : إن مقاطع الحقوق عند الشروط ، و المقاطع جمع مقطع ، أراد أن المواضع التي تقطع الحقوق فيها عند وجود الشروط ، و أراد به الشروط الواجبة فإنها يجب الوفاء بها . و اختلف العلماء في الرجل يتزوج المرأة و يشترط لها أن لا يخرجها من دارها أو لا يتزوجا عليها أو لا يتسرى أو نحو ذلك من الشروط المباحة على قولين : أحدهما : أنه يلزمه الوفاء بذلك ، ذكر عبد الرزاق و ابن عبد المنذر عن عمر بن الخطاب ، رضي الله تعالى عنه ، أن رجلا شرط لزوجته أن لا يخرجها ، فقال عمر : لها شرطها . ثم ذكرا عنه ما ذكره البخاري ، و قال عمرو بن العاص : أرى أن يفي لها شروطها ، و روي مثلها عن طاووس و جابر بن زيد ، و هو قول الأوزاعي و أحمد و إسحاق ، و حكاه ابن التين عن ابن مسعود و الزهري، و استحسنه بعض المتأخرين . و الثاني : أن يؤمر الزوج بتقوى الله و الوفاء بالشروط و لا يحكم عليه بذلك حكما ، فإن أبى إلا الخروج لها كان أحق الناس بأهله إليه ذهب عطاء و الشعبي و سعيد بن المسيب و النخعي والحسن و ابن سيرين و ربيعة و أبو الزناد و قتادة ، و هو قول مالك و أبي حنيفة و الليث و الثوري و الشافعي اھ(20/140)۔