کیافرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ مسماۃ "اسماء بی بی بنت کالاخان" کانکاح مسمیٰ محمد توصیف ولد محمد صغیر کیساتھ 2014میں ہوگیاتھا ، نکاح کے موقع پرحق مہر کے خانہ نمبر 13 میں مہر کی رقم پچاس ہزارر وپے لکھا گیاتھا ،جبکہ نکاح کے موقع پرمکان کی بات بھی چلی تھی ،تواس مکان کی بجائے نکاح نامہ کے شق نمبر 17(خاص شرائط اگر کوئی ہوں )میں شادی کے موقع پرحق مہر پچاس ہزار کے علاوہ پانچ تولہ سونا گفٹ کے طور پرلکھا گیا اور اس میں سے موقع پر تین تولے دیاگیا ،جبکہ دوتولے باقی رہا ،اب ان دونو ں میاں بیوی کے درمیان طلاق اورجدائی ہوگئی ہے , تو مہر پچاس ہزار تو ادا کردیا گیا ہے ،اب پانچ تولہ سونا گفٹ کے متعلق پوچھنا ہےکہ یہ لڑکی کا حق ہے ؟ اور وہ مزید دوتولے کا مطالبہ کرسکتی ہے ؟ یا یہ لڑکے کا حق ہے اور وہ تین تولے واپس مانگ سکتا ہے ؟جوبھی شرعی حکم ہوتحریرفرمائیں ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکور پانچ تولہ سونا اگر حق مہر کا حصہ نہ ہو ,بلکہ شوہر کے ذمہ ابتداءً بطورِ ہبہ اور گفٹ دینا طے ہوا ہو ,تو ایسی صورت میں شوہر نے پانچ تولہ سونے میں سے جو تین تولہ سونا بیوی کو باقاعدہ مالکا نہ طور پر حوالہ کردیا ہے تو وہ بیوی کی ملکیت بن چکاہے ، چنانچہ اب میاں بیوی کے درمیان جدائی کی صورت میں شوہر کیلئے اسکی واپسی کے مطالبے کاحق حاصل نہیں ، البتہ باقی دو تولےسونا چونکہ شوہر کی طرف سے بیوی کو حوالہ نہیں کیا گیاہے اس لئے وہ اسکی مالک نہیں بنی لہذا اب وہ شرعاً اس کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتی , البتہ شوہر کیلئے بہتر اور افضل یہ ہے کہ وہ حسبِ معاہدہ بیوی کوبقیہ دو تولہ سونا بھی حوالے کردے ۔
فی الدرالمختار : (و الزاي الزوجية وقت الهبة فلو وهب لامرأة ثم نكحها رجع و لو وهب لامرأته لا) كعكسه .(5/704)۔