السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں ثاقب ریاض آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں، مسئلہ یہ ہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہوں ، ہماری نا چاقی چل رہی ہے ، میرے نکاح نامہ میں حق مہر میں 2 لاکھ روپے لکھے ہیں اور خصوصی شرائط میں 5 تولہ سونا لکھا ہوا ہے، جس میں سے2.5 تولہ ادا کیا ہوا ہے، جبکہ 2.5 تولہ سونا ادا کرنا باقی ہے ، تو کیا اس کی ادائیگی لازم ہے یا نہیں ؟ اور میں نے جو 2.5 تولہ سونا ادا کیا ہے کیا میں وہ واپس لے سکتا ہوں ؟
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق اگر پانچ تولہ سونا حق مہر کا حصہ نہ ہو بلکہ حق مہر فقط دو لاکھ روپے مقرر ہو اور اسکے علاوہ سائل نے بیوی کو پانچ تولہ سونا دینے کا بھی وعدہ کیا ہو تو ایسی صورت میں اگرچہ سائل کے ذمہ حق مہر کے طور پر بیوی کو دو لاکھ روپے کیساتھ پانچ تولہ سونا دینا لازم اور ضروری نہیں ، البتہ سائل نے چونکہ بیوی کو پانچ تولہ سونا دینے کا وعدہ کیا ہے ، اس لئے اگر کوئی عذر نہ ہو تو سائل کوچاہیئے کہ بقیہ ڈھائی تولہ سونا بھی بیوی کو حوالہ کر کے اس وعدے کی پاسداری کرے، جبکہ سائل نے ڈھائی تولہ سونا اگر بیوی کو باضابطہ مالکانہ قبضے کے ساتھ دیدیا ہو تو ایسی صورت میں اب سائل کو بیوی سے یہ سونا واپس لینے کا حق حاصل نہیں۔
کما قال اللہ تعالی : وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـئُوْلًا الآیۃ (آیتـ 34 سورۃ بنی اسرائیل)
و قال اللہ تعالی: وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً الآیۃ (آیتـ 4 سورۃ النساء)
وفی بدائع الصنائع: أن المهر ملك المرأة وحقها؛ لأنه بدل بضعها، وبضعها حقها وملكها، والدليل عليه قوله عز وجل: {وآتوا النساء صدقاتهن نحلة} [النساء: 4] أضاف المهر إليها فدل أن المهر حقها وملكها، وقوله عز وجل: {فإن طبن لكم عن شيء منه نفسا فكلوه هنيئا مريئا} [النساء: 4] وقوله تعالى: منه أي: من الصداق؛ لأنه هو المكنى السابق أباح للأزواج التناول من مهور النساء إذا طابت أنفسهن بذلك، ولذا علق سبحانه وتعالى الإباحة بطيب أنفسهن، فدل ذلك كله على أن مهرها ملكها وحقها الخ (کتاب الطلاق ج 2 صـ290 ط: سعید)
وفی رد المحتار: تحت(قوله ويمنع الرجوع إلخ) هو كقول بعضهم (إلی قولہ) قال الرملي: قد نظم ذلك والدي العلامة شيخ الإسلام محيي الدين فقال:
منع الرجوع من الواهب سبعة ... فزيادة موصولة موت عوض
وخروجها عن ملك موهوب له ... زوجية قرب هلاك قد عرض
(کتاب الھبۃ ج 5 صـ 699 ط: سعید)
وفی الدر المختار: (والزاي الزوجية وقت الهبة فلو وهب لامرأة ثم نكحها رجع ولو وهب لامرأته لا) كعكسه اھ (کتاب الھبۃ ج 5 صـ 704)
وفی رد المحتار: تحت (قوله لأن الظاهر يكذبه) قال في الفتح (إلی قولہ) قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا اھ (کتاب النکاح باب المھر ج 3 صـ 153 ط: سعید)