عرض یہ ہے کہ میں نے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی اپنے خالہ زاد بھائی کے اکلوتے بیٹے سے مورخہ 12 نومبر 1995 کو کردی تھی، شادی کے وقت مہر کی رقم مبلغ 25,000 روپے عند الطلب مقرر کی گئی تھی، میں نے اپنی بیٹی کو جہیز میں مندرجہ ذیل سامان دیا تھا۔
سونے کے زیورات ، فرنیچر ، ٹی وی سیٹ ، ٹیپ ریکارڈر ، سلائی کی مشین، کپڑے دھونے کی مشین ، گھریلو استعمال کی چیزیں اور برتن تحائف اور کپڑے وغیرہ۔
اس کے علاوہ میری بیٹی کے سسرال والوں نے بھی شادی کے وقت میری بیٹی کو سونے کے زیورات اور کپڑے وغیرہ دیے تھے اور شادی کے بعد منہ دکھائی کی رسم میں بھی زیورات اور تحفے دیے تھے جس طرح کے عام طور پر ہوتا ہے ، اور میری بیٹی ان تمام چیزوں کی مالک تھی ، شادی کے تقریباً ایک سال 2 ماہ بعد میری بیٹی کو ﷲ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے نوازا یعنی 2 جنوری 1997 کو صبح 10 بجے میری نواسی کی ولادت اسپتال میں ہوئی، میری بیٹی ماشاء ﷲ تندرست تھی اور اسے کسی بھی قسم کی ذہنی یا جسمانی بیماری لاحق نہیں تھی ، میری نواسی کی ولادت بھی معمول (Normal) کے مطابق ہوئی ، لیکن اچانک اسی روز یعنی بچی کی ولادت کے کوئی 6 گھنٹے بعد سہہ پہر 4 بجے میری بیٹی کی اچانک طبیعت خراب ہوئی اور چند ہی لمحوں بعد اس کا انتقال ہوگیا ، اس طرح میری نواسی شفقتِ مادری سے محروم ہوگئی ، پھر میری نواسی کو اس کی پھوپھی یعنی میرے داماد کی بہن نے گود لے لیا ، میری نواسی اس وقت ماشاء ﷲ حیات اور اس وقت اس کی عمر تقریباً 5 ماہ کے لگ بھگ ہے۔
مجھے چند مندرجہ ذیل مسائل پر آپ کی رہنمائی حاصل کرنی ہے:
(۱) مہر کی رقم اگر میری بیٹی نے مرنے سے پہلے معاف نہیں کی تو کیا ہم اس رقم کا مطالبہ اپنے داماد سے کرسکتے ہیں؟ اور اس رقم کے صحیح حقدار کون ہیں؟ میں یا میری نواسی یا کوئی رشتہ دار یا کوئی بیوہ یا یتیم؟
(۲) میں نے جو سامان بشمول سونے کے زیورات اور کپڑے اپنی بیٹی کو شادی کے وقت جہیز میں دیا تھا کیا وہ سامان میں واپس لینے کا حقدار ہوں یا وہ میرے داماد یا ان کے گھر والوں کا حق ہے؟
(۳) کیا اِن زیورات اور سامان پر جو میں نے اپنی بیٹی کو جہیز میں دیا تھا میرا یا میری نواسی کا یا کسی اور رشتہ دار کا حق بنتا ہے؟ اور اگر حق بنتا ہے تو کتنا؟
(۴) کیا ان زیورات یا کپڑوں اور تحفوں پر جو کہ میری بیٹی کے سسرال والوں نے اور ان کے عزیز و اقارب نے شادی کے موقع پر اسے منہ دکھائی میں دیے تھے ، میرا یا میری نواسی کا یا میرے کسی رشتہ دار کا حق بنتا ہے؟ اور اگر حق بنتا ہے تو کتنا کتنا؟
میرے مندرجہ بالا مسائل کا جواب قرآن و سنتِ رسول ﷺ کی روشنی میں تحریر کرکے میری رہنمائی فرمائیں، تا کہ میں کسی بھی غیر شرعی کام سے محفوظ رِہ سکوں۔
اﷲ تعالیٰ آپ کو اس کا اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین
نوٹ: (میرے خالہ زاد بھائی ماشاء ﷲ مالی طور پر صاحبِ حیثیت ہیں، ان کے بیٹے (جوکہ میرے داماد ہیں) کے علاوہ 5 بیٹیاں ہیں جن میں سے 4 شادی شدہ ہیں ، میں بھی مالی طور پر صاحبِ حیثیت ہوں، میرا ایک بیٹا ہے اور ایک بیٹی تھی جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے)۔
(۱، ۲) صورتِ مسئولہ میں جو زیور اور جہیز کا سامان لڑکی کو اپنے والدین یا دوسرے اقرباء کی طرف سے دیا گیا تھا وہ اور مہر کی رقم جو نکاح کے وقت مقرر کی گئی تھی یہ دونوں چیزیں تو بہرحال لڑکی ، کی ملک ہیں، اور لڑکی کے انتقال کے بعد اس کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوں گی جس کی تفصیل آخر میں درج ہے۔
(۳) البتہ جو زیور خاوند یا اس کے گھر والوں کی طرف سے لڑکی کو دیے گئے اور پہناۓ گۓ ہیں تو ان کا حکم رواج پر موقوف ہے اور اس سلسلہ میں ہمارے یہاں کا عام رواج یہی ہے کہ خاوند اور اس کے خاندان والوں کی طرف سے دیے جانے والے زیورات لڑکی کی ملکیت نہیں کئے جاتے بلکہ اسے فقط پہننے کیلئے دیے جاتے ہیں لہٰذا اس قسم کے زیورات وغیرہ مرحومہ کے ترکہ میں شمار نہیں ہوں گے بلکہ خاوند اور اس کے خاندان والوں کو واپس کرنا ضروری ہیں، ہاں اگر وہ کہہ دیں کہ ہم نے یہ زیورات لڑکی کی ہی ملکیت کردئیے تھے تب وہ جمیع ترکہ میں شمار کئے جائیں گے۔
(۴) اور منہ دکھائی کے موقع پر خاوند کے عزیز و اقارب نے مرحومہ کو جو تحفے تحائف وغیرہ دیے اگر وہ ساری چیزیں مرحومہ کو مالک و قابض بنا کر دی ہوں اور واپسی یا بدلے وغیرہ کے شرط پر نہ دیے ہوں تو وہ بھی مرحومہ کی ملکیت ہوکر جمیع ترکہ میں شمار کئے جائیں گے، اس ساری تفصیل کے جان لینے کے بعد صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم اصولِ میراث کے مطابق اس طرح ہو گی کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان چھوڑا ہے اس میں سے سب پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کی ایک تہائی کی حد تک اس پر عمل کریں اس کے بعد جو مال بچ جائے اس کل مال کو برابر ، برابر بارہ حصوں میں تقسیم کریں پھر تین حصے مرحومہ کے شوہر کو ، چھ حصے مرحومہ کی بیٹی کو ، دو حصے مرحومہ کے والد کو اور ایک حصہ مرحومہ کی والدہ کو دے دیں ، اور مرحومہ کا بھائی والد کی وجہ سے ترکہ سے محروم ہوجائے گا۔
نقشہ درج ذیل ہے:
مسئلہ۲۱
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شوہر، بیٹی، والد، والدہ، بھائی
۳ ۶ ۲ ۱ م