میری شادی فروری 2020 میں ہوئی، میری بیوی میرے ساتھ پانچ سے چھ مہینے رہی اور پھر وہ گھر چھوڑ کر اپنے والدین کےساتھ رہنے چلی گئی بغیر کسی عذر کے , تب سے اب تک ہم دونوں ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کر رہے ہیں، چند بڑےرشتہ داروں نے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی، جبکہ وہ واپس آنے کیلئے تیار نہیں ہو رہی ہے ، اور طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے ، میرا سوال یہاں مہر کے متعلق ہے ، جبکہ میری شادی میں کچھ مہر معجل اور کچھ مہر مؤجل تھا، معجل اس وقت ادا ہو چکا تھا نکاح کے دوران ، جبکہ مؤجل مہر جو کہ کچھ محد و در قم ہے ، کی ادائیگی ابھی بھی باقی ہے، اب اس صورت میں جبکہ میری بیوی طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے تو کیا مہر مؤجل کی ادائیگی کرنی ہو گی یا نہیں؟ ایک ضروری بات یہ ہے کہ یہاں وہ خود طلاق کا مطالبہ کررہی ہے ، اور ہمارے بچے بھی نہیں ہے۔
سائل کا بیان اگر واقعۃًدرست اور حقیقت پر مبنی ہو اس طور پر کہ سائل کی بیوی بغیر کسی عذر کے اپنے والدین کے گھر چلی گئی ہو اوربلا کسی وجہ کے طلاق کا مطالبہ کر رہی ہو تو اس کا یہ عمل شر عاً ناجائز ہے جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہورہی ہے لہذا سائل کی بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس نا جائز مطالبے سے باز آکر گھر بسانے کی فکر کرے تاہم اگر باوجود کوشش کے نباہ کی کوئی صورت نہ ہو اور سائل اسے طلاق دید ے ، تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ بقیہ مکمل حق مہر کی ادائیگی لازم ہوگی، البتہ اگر طلاق دینے سےقبل سائل اس سے حق مہر معاف کرائے یا حق مہر کے عوض اسے خلع دیدے تو سائل کے ذمہ مہر کی ادائیگی لازم نہ ہو گی۔
كما في مسند الامام احمد : عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ، أَنَّ عَمَّةً لَهُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَفَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «كَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟» قَالَتْ: مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ، قَالَ: «فَانْظُرِي أَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ»(31/341)
وفی بدائع الصنائع: (وأما) بيان ما يتأكد به المهر فالمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة.الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين، سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط شيء منه بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، أما التأكد بالدخول فمتفق عليه، والوجه فيه أن المهر قد وجب بالعقد وصار دينا في ذمته، والدخول لا يسقطه؛ لأنه استيفاء المعقود عليه، واستيفاء المعقود عليه، يقرر البدل لا أن يسقطه كما في الإجارة؛ ولأن المهر يتأكد بتسليم المبدل من غير استيفائه لما نذكر فلأن يتأكد بالتسليم مع الاستيفاء أولى.(2/291)
وفی الھندیة(الفصل الحادی عشر :فی منع المراہ نفسھا بمھرھا والتاجیل فی المھر ومایتعلق بھما )فی کل موضع دخل بھا او صحت الخلوۃ وتاکد کل المھر وارادت ان تمنع نفسھا لاستیفاء المعجل لھا ذلک اھ(2/291)