کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مَیں سوات کالونی میں رہتا ہوں اب دوسری جگہ جانا چاہتا ہوں تو میری ساس کہتی ہے کہ میری لڑکی کو تب لے کر جاؤگے جب اس کا مہر پانچ تولہ سونا دو گے۔
مہر میں نے ادا کیا تھا لیکن پھر کسی ضرورت کی بناء پر اس سے زیورات لے کر بیچ دئیے تھے اب اس مہر اور زیور کے نہ دینے پر ساس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مجھے منع کرے اور میرے ساتھ میری بیوی کو نہ جانے دے؟
مہر بیوی کا حق ہے جس کی ادائیگی شوہر کے ذمہ لازم ہے مگر سائل کی ساس کا مہر کی عدم ادائیگی کو بنیاد بناکر اپنی بیٹی کو شوہر کے ساتھ کسی مناسب دوسری جگہ منتقل ہونے سے روکنا شرعاً جائز نہیں اسے اپنے نامناسب رویہ سے احتراز جبکہ مذکور شخص کو چاہئے کہ مذکور سونے کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنے کے بجائے جلد از جلد اس کی ادائیگی کا اہتمام کرے اور بصورتِ مجبوری تاخیر ہونے سے عورت کو بھی اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانا چاہئے۔
وفی الھندیۃ : لا بأس بان یستدین الرجل اذاکانت لہ حاجۃ لا بد منہا و ہو یرید قضائہا ولو استدان دینا و قصد أن لا یقضیہ فہو أکل السحت۔ (ج۵، ص۳۶۶)-