کیا حق مہر میں رقم کے برابر زیور مقرر کیا جا سکتا ہے؟ مثلاً ایک لاکھ مالیت کے طلائی زیورات ادا کیے جائیں گے؟ مزید رہنمائی یہ بھی فرمائیں کہ چونکہ سونے کا بھاؤ بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے تو کیا نکاح والے دن کا ریٹ لاگو ہوگا ؟ یا جس دن ادا کریں گے ، اس دن کا ریٹ لگے گا؟جزاک اللّہ
حق مہر کے طور پر ، کیش رقم کے بجائے زیورات بھی متعین کیے جاسکتے ہیں، لیکن جو چیز حق مہر کے طورپر مقرر کردی جائے، تو شوہر کے ذمہ اسی کی ادائیگی لازم ہوگی، لہذا نکاح کے وقت اگر حق مہر کے طور پر ایک لاکھ روپے کے زیورات متعین کردیے گئے ،تو اس میں چونکہ حق مہر مبلغ ایک لاکھ روپے ہے اور اس کی ادائیگی طلائی زیورات کی شکل میں لازم ہوگی ، اس لۓ ادائیگئیِ مہر کے وقت مبلغ ایک لاکھ روپے کے جو بھی زیورات بنتے ہوں، شوہر کے ذمہ اس کی ادائیگی لازم ہوگی ، البتہ اگر نکاح کے وقت حق مہر کے طور پر رقم کے بجائے طلائی زیورات کی کوئی ایسی مقدار متعین کردی جائے، جس کی رائج قیمت مبلغ ایک لاکھ روپے کی برابرہو ، تو ایسی صورت میں چونکہ حق مہر متعین کردہ زیورات ہے، اس لۓ بعد میں قیمت کے کم ہوجانے یا بڑھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑیگا، بلکہ متعین کردہ مقدار کے بقد رزیورات کی ادائیگی شوہر کے ذمہ لازم ہوگی۔
کمافی تاتارخانیة : المھر لا یخلو اما أن یکون دینا أو عینا ، نعنی بالعین العروض و نعنی بالدین الدراھم و الدنانیر ، أما اذا کان المھر عینا فلیس للزوج أن یدفع الیھا غیرھا و ان کان دینا کان للزوج أن یحبسہ و یدفع غیرہ ۔ (۱۶۳/۴)۔
و فی تبیین الحقائق :و من بعث الی امرأتہ شیئا ، فقالت : ھو ہدیة ، و قال ھو من المھر ، فالقول قولہ من غیر المھیا للأکل لأنہ ھو المملک ، فکان أعرف بجھة التملیک ۔ (۵۸۱/۲، ط: زکریا، دیوبند )۔