ترجمہ :حقِ مہر( 2016)میں ،میں نے ادا کردیا تھا ،لیکن پھر میری بیوی نے کہا کہ اس کو بیچ دو ،گھر لینا تھا ،میں نے بیچ دیا اس سے پہلے میں نے کہا تھا کہ میں آپ کو یہ واپس نہیں کرسکتا ،لیکن اس نے کہا کہ میں آپ سے کبھی بھی نہیں مانگ رہی ،میں نے معاف کردیا ہے آپ کو اپنا حقِ مہر ،لیکن ابھی وہ عدالت میں جاکر بول رہی ہے کہ مجھے میرا حقِ مہر دو ،کیا کروں میں ، جو رقم (2016)میں تھی سونے کی وہ ادا کروں گا ،یا جب سیل آؤٹ کیا تھا حقِ مہر (2020)میں وہ ادا کروں گا، یا پھر اس وقت جو موجود رقم ہے وہ ادا کرنی ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃًدرست اور مبنی بر حقیقت ہو ،اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً سائل کی بیوی نے اپنی خوشی اور دلی رضامندی سے اپنے حقِ مہر کا سونا سائل کو دیدیا تھا اور سائل نے مذکور سونا واپس نہ کرنے کی صراحت کر دی تھی جس پر سائل کی بیوی نے مذکور سونا سائل کو معاف کردیا تھا اور سائل کے پاس اس بات پر گواہ بھی موجود ہو تو اب سائل کی بیوی کیلئے مذکور سونے کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ،جس سےبہر صوررت احتراز لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار : حتى يقال إن الساقط لا يعود ، فقولهم يسقط حقها معناه منع منه مانع كقولهم تسقط النفقة بالنشوز ، اھ(3/566)۔
و فی درر الحکام : يعني إذا أسقط شخص حقا من الحقوق التي يجوز له إسقاطها يسقط ذلك الحق و بعد إسقاطه لا يعود . أما الحق الذي لا يقبل الإسقاط بإسقاط صاحبه له . مثال : لو كان لشخص على آخر دين فأسقطه عن المدين ، ثم بدا له رأي فندم على إسقاطه الدين عن ذلك الرجل ، فلأنه أسقط الدين ، و هو من الحقوق التي يحق له أن يسقطها ، فلا يجوز له أن يرجع إلى المدين و يطالبه بالدين ؛ لأن ذمته برئت من الدين بإسقاط الدائن حقه فيه ، اھ (15/54)۔