کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسائل کے متعلق کہ:
(1)جوتحفے دلہن کو (سونے کے زیورات کی صورت میں)کچھ شادی کے موقع پر، اور کچھ شادی کے کچھ عرصے بعد دولہے اور اسکے بہن بھائی اور اسکی والدہ کیطرف سے دیے گئے ہوں ، تو کیا لڑکی عدالتی خلع جوشوہر کے علم میں لائے بغیر لی گئی ہو , ان زیورات کامطالبہ کرسکتی ہے؟
(2)اور جوپیسے لڑکی نےاپنی مرضی سے جاب کرکے کمائےاس میں سے کچھ پیسے اپنے آنے جانے میں ،کچھ پیسے اپنی ذات پراور کچھ پیسے گھر میں اپنی مرضی سے خرچ کیے اسطور پر کہ انکے مابین اس بات کاکوئی ایگریمنٹ نہیں تھا کہ وہ بطورِقرض یاواپسی کے مطالبے پر خرچ کررہی ہے،تو کیا ان پیسوں کامطالبہ عدالتی خلع لینے کے بعد شوہر سے کرسکتی ہے؟
واضح ہوکہ عدالتی خلع کے درست ہونے یا نہ ہونے سے قطعِ نظر زیورات کے متعلق حکم یہ ہیکہ شادی کے موقع پر لڑکی کو شوہر اور اسکے بہن بھائیوں کی اور والدہ کی طرف سے جوزیورات دیے گئے ہیں ،اگر وہ عاریۃْ فقط استعمال کیلئے نہ دیے گئے ہوں ،بلکہ باقاعدہ لڑکی کو گفٹ اور ہبہ کیاگیا ہو ،یاخاندانی عرف و رواج کے مطابق شادی کے موقع پر زیورات باقاعدہ گفٹ اور ہبہ کے طورپر دیے جاتے ہوں ،تو ایسی صورت میں لڑکی ان زیورات کی مالک شمار ہوگی،اور اب لڑکی کے اہلِ خانہ کیلئے لڑکی سے وہ زیورات واپس لینا جائز نہ ہوگا،تاہم اگر معاملے کی نوعیت مختلف ہو تو اسکے متعلق مکمل وضاحت کے بعد کوئی حکم بتایا جاسکتا ہے۔
جبکہ لڑکی نے اپنی کمائی میں سے اپنے آنے جانے یا اپنی روز مرہ کی ضروریات میں رقم خرچ کی ہے ،اسکا مطالبہ تو وہ اپنے شوہر سے نہیں کرسکتی،البتہ اسکے علاوہ اگر اس نے گھر کی تعمیر وغیرہ میں رقم خرچ کی ہو تو ایسی صورت میں اسکی مکمل وضاحت اور لڑکی کا موقف معلوم ہونے کے بعد اسکے متعق کوئی حکم بتایا جاسکے گا۔
کمافی ردالمحتار (قَوْلُهُ: وَكَذَا زِفَافُ الْبِنْتِ) أَيْ عَلَى هَذَا التَّفْضِيلِ بِأَنْ كَانَ مِنْ أَقْرِبَاءِ الزَّوْجِ أَوْ الْمَرْأَةِ أَوْ قَالَ الْمُهْدِي.أَهْدَيْت لِلزَّوْجِ أَوْ الْمَرْأَةِ كَمَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة.وَفِي الْفَتَاوَى الْخَيْرِيَّةِ :سُئِلَ فِيمَا يُرْسِلُهُ الشَّخْصُ إلَى غَيْرِهِ فِي الْأَعْرَاسِ وَنَحْوِهَا هَلْ يَكُونُ حُكْمُهُ حُكْمَ الْقَرْضِ فَيَلْزَمُهُ الْوَفَاءُ بِهِ أَمْ لَا؟ أَجَابَ: إنْ كَانَ الْعُرْفُ بِأَنَّهُمْ يَدْفَعُونَهُ عَلَى وَجْهِ الْبَدَلِ يَلْزَمُ الْوَفَاءُ بِهِ مِثْلِيًّا فَبِمِثْلِهِ، وَإِنْ قِيَمِيًّا فَبِقِيمَتِهِ وَإِنْ كَانَ الْعُرْفُ خِلَافَ ذَلِكَ بِأَنْ كَانُوا يَدْفَعُونَهُ عَلَى وَجْهِ الْهِبَةِ، وَلَا يَنْظُرُونَ فِي ذَلِكَ إلَى إعْطَاءِ الْبَدَلِ فَحُكْمُهُ حُكْمُ الْهِبَةِ فِي سَائِرِ أَحْكَامِهِ فَلَا رُجُوعَ فِيهِ بَعْدَ الْهَلَاكِ أَوْ اسْتِهْلَاكِ، وَالْأَصْلُ فِيهِ أَنَّ الْمَعْرُوفَ عُرْفًا كَالْمَشْرُوطِ شَرْطًا اهـ.(ج۳ص۱۵۳)