ایک لڑکے نے نکاح کرلیا ہے ان کے گھر والوں کوپتہ نہیں تھا اب ان کے گھر والے دوبارہ نکاح کروارہے ہیں، کاغذی کاروائی پہلے نہیں ہوئی تھی تو اب نکاح دوبارہ ہونے کی وجہ سے کیا حکم ہے نکاح پر نکاح ہوجائے گا؟ اس کاکیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ عذر کی بناء پرلڑکے کے گھر والے اگر دوبارہ نکاح کروادیں تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں،اور یہ محض تجدید نکاح کہلائے گا،نہ کہ نکاح پر نکاح اور اس بناء پر کئے گئے نکاح ثانی میں مقرر کردہ مہر بھی لازم نہ ہوگا ،چنانچہ بہتر یہ ہے کہ اس نکاح ثانی میں سابقہ مہر لکھوایا جائے ۔
کما فی الدر المختار:وفي الكافي: جدد النكاح بزيادة ألف لزمه ألفان على الظاهر۔ الخ
وفی الشامیۃ:( تحت قوله وفي الكافي إلخ) حاصل عبارة الكافي: تزوجها في السر بألف ثم في العلانية بألفين ظاهر المنصوص في الأصل أنه يلزم الألفان ويكون زيادة في المهر.(الی قولہ) ثم ذكر أن قاضي خان أفتى بأنه لا يجب بالعقد الثاني شيء ما لم يقصد به الزيادة في المهر،اھ(ج3ص112)۔
وفیہ ایضآ:[تنبيه] في القنية: جدد للحلال نكاحا بمهر يلزم إن جدده لأجل الزيادة لا احتياطا اهـ أي لو جدده لأجل الاحتياط لا تلزمه الزيادة بلا نزاع كما في البزازية. وينبغي أن يحمل على ما إذا صدقته الزوجة أو أشهد، وإلا فلا يصدق في إرادته الاحتياط كما مر عن الجمهور، أو يحمل على ما عند الله تعالى۔ اھ (ج3ص113)۔