میرے چار بچے ہیں، میرے شوہر کسی بیوہ سے دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں، میر ادل راضی نہیں ہے، لیکن میں ان کی خوشی میں خوش ہونا چاہتی ہوں، میں اجازت دےدوں، یا اللہ سے کیا دعا مانگوں؟ میری رہنمائی فرمائیں۔
سائلہ کا شوہر اگر دوسری شادی کرنا چاہتا ہو اور وہ دونوں بیویوں کے تمام حقوق واجبہ کی منصفانہ ادائیگی پر قادر ہو تو شرعا ً اس کو دوسری شادی کی اجازت ہے، اور وہ اس بارے میں بیوی کی اجازت کا پابند بھی نہیں، اور ایسی صورت میں سائلہ کو بھی اعتراض نہ کرنا چاہئے، جبکہ سائلہ کا اس پر دلی رضامندی نہ ہونا ایک فطری بات ہے ، سائلہ کو صبر سے کام لیتے ہوئے اللہ سے اجر کی امید رکھنی چاہیئے۔
کما قال الله تعالى: {فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ}۔الآیة (النساء:3)
وفي أحكام القرآن للجصاص: وأما قوله تعالى: {فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة} فإن معناه والله أعلم: العدل في القسم بينهن, لما قال تعالى في آية أخرى: {ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل} [النساء: 129] والمراد ميل القلب, والعدل الذي يمكنه فعله ويخاف أن لا يفعل إظهار الميل بالفعل, فأمره الله تعالى بالاقتصار على الواحدة إذا خاف إظهار الميل والجور ومجانبة العدل۔اھ (2/ 70)