السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں اپنی والدہ کا ایک بیٹا ہوں اور ان کے ساتھ رہتا ہوں، میری بیوی کی میری والدہ سے نہیں بنتی ، اور دونوں کی آپس میں ہروقت لڑائی رہتی ہیں، کسی نہ کسی بہانے سے میری ماں مجھے کہتی ہیں، تمہاری وجہ سے یہ کرتی ہے تم چھوڑ دو اسے ٹھیک ہوجائے گی، میں اپنی ماں کو کہتا ہو کہ میرے تین چھوٹے بچے ہیں ، میں اپنی بیوی کو نہیں چھوڑ سکتا مجبوراً ، ورنہ میرے بچے نقصان اٹھائی گے وہ مجھے طعنے دیتی ہے، ہر دفعہ کہ تم کمزور ہو جبکہ میں بیوی سے لڑائی کے بعد ماں کو ہی سپورٹ کرتا ہوں،ابھی اخری لڑائی کے بعد بیوی نے کہاکہ اب سے میں آپ کی امی کے لیے میں کھانا نہیں بناؤں گی، وہ خود بنائیں اپنا وہ میری ذمہ داری نہیں ہے، تو میرا اپنی امی کے ساتھ کھاناشروع ہوگیا اور بیگم الگ کھا رہی ہیں، پلیز میری رہنمائی کیجئے کہ میں کیا کروں نہ ماں کو الگ کرسکتا ہوں، اور نہ ہی بچوں کی وجہ سے بیوی کو چھوڑ سکتا ہوں، میری بچے 3،5، اور دو سال کے ہیں؟
سائل کی بیوی کے لیے سائل کی والدہ کے ساتھ لڑنا جھگڑنا درست نہیں، بلکہ اسے چاہیے کہ ساس کی چھوٹی موٹی باتوں کو درگزر کرتے ہوئے، اس کی خدمت کو سعادت سمجھ کر کرتی رہا کرے، انشاء اللہ ، اللہ تعالی اسے اس کا بہترین صلہ عطاء فرمائیں گے، جبکہ سائل کی والدہ کے لیے معمولی اور چھوٹی موٹی باتوں کی وجہ سے سائل سے بیوی کو چھوڑنے اور اسے طلاق دینے کا مطالبہ کرنا بھی درست نہیں، اور نہ ہی سائل کے لیے والدہ کے کہنے پر بیوی کو طلاق دینا ضروری ہے، بلکہ سائل کو چاہیے کہ حکمت وبصیرت کے ساتھ والدہ اور بیوی دونوں کو سمجھانے کی کوشش کریں، تاکہ گھر کا ماحول پرسکون رہے ،تاہم اگر سمجھانے سے بھی فائدہ نہ ہو تو بیوی کو گھر کے اندر ایک کمرہ اٹیچ باتھ روم کے ساتھ دیکر اس کو والدہ سے الگ کرنا بھی درست ہہے، اس سے انشاء اللہ لڑائی جھگڑے کا ماحول ختم ہوجائے گا۔
کما فی سنن الترمذی: حدثنا محمود بن غيلان، قال: حدثنا وكيع، قال: حدثنا سفيان، عن زبيد بن الحارث، عن أبي وائل، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر قال زبيد: قلت لأبي وائل: أأنت سمعته من عبد الله؟ قال نعم. هذا حديث حسن صحيح.(3/421 رقم الحدیث 1983)۔
وفی تفسیر المنیر: وقال عز وجل: أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ. وَإِنْ جاهَداكَ عَلى أَنْ تُشْرِكَ بِي ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ، فَلا تُطِعْهُما وَصاحِبْهُما فِي الدُّنْيا مَعْرُوفاً [لقمان 31/ 14- 15] لذا كان عقوق الوالدين من الكبائر، وبرّهما والإحسان إليهما من أفضل الأعمال، (الی قولہ) وروى الحافظ ابن مردويه عن أبي الدرداء وعبادة بن الصامت، كل منهما يقول: أوصاني خليلي رسول الله صلّى الله عليه وسلّم: «أطع والديك، وإن أمراك أن تخرج لهما من الدنيا فافعل» «1» . والإحسان إلى الوالدين: معاملتهما معاملة كريمة نابعة من العطف والمحبة، لا من الخوف والرهبة. وكما يفعل الولد مع والديه يفعل أولاده معه ولو بعد حين، روى الطبراني في الأوسط عن ابن عمر عن النّبي صلّى الله عليه وسلّم قال: «بروا آباءكم تبركم أبناؤكم، وعفوا تعف نساؤكم» .الخ (8/95)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله وكذا تجب لها) أي للزوجة السكنى أي الإسكان، وتقدم أن اسم النفقة يعمها؛ لكنه أفردها؛ لأن لها حكما يخصها نهر (قوله خال عن أهله إلخ) ؛ لأنها تتضرر بمشاركة غيرها فيه؛؛ لأنها لا تأمن على متاعها ويمنعها ذلك من المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع (الی قولہ) وكان الخلاء مشتركا ليس لها أن تطالبه بمسكن آخر (قوله ومفاده لزوم كنيف ومطبخ) أي بيت الخلاء وموضع الطبخ بأن يكونا داخل البيت أو في الدار لا يشاركها فيهما أحد من أهل الدار. قلت: وينبغي أن يكون هذا في غير الفقراء الذين يسكنون في الربوع والأحواش بحيث يكون لكل واحد بيت يخصه وبعض المرافق مشتركة كالخلاء والتنور وبئر الماء ويأتي تمامه قريبا (قوله لحصول المقصود) هو أنها على متاعها؛ وعدم ما يمنعها من المعاشرة مع زوجها والاستمتاع (قوله وفي البحر عن الخانية إلخ) عبارة الخانية: فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لها أن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها. الخ (3/599)۔