میرا سوال یہ ہے کہ میری دکان ہے،مرغی کے گوشت کی،بیرون ملک میں،جہاں غیر مسلم بھی کام کرتے ہیں،پوچھنا یہ تھا کہ کسی غیر مسلم سے اللہ اکبر پڑھوا کر ذبح کروانا درست ہے؟
واضح ہوکہ اہلِ کتاب(یہود نصاری)کے علاوہ دوسرے غیر مسلموں کا ذبیحہ حلال نہیں،اگرچہ وہ مسلمانوں کی طرح تکبیر پڑھ کر ذبح کریں،اسلئے سائل کو چاہیے کہ ذبح کرنے کیلئے مسلمانوں کو ہی منتخب کریں، غیر مسلموں کو اس کام کے لئے مقرر نہ کریں۔
کما فی تنزیل العزیز: الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ (المائدة:5الآیة)
وفی احکام القرآن للجصاص: وقد علمنا ان المشرکین وان سموا علیٰ ذبائحھم لم تؤکل اھ(ج3/ص6)۔
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اگر اس کی کھال میں کیڑا نکل آئے، توایسی قربانی کاحکم
یونیکوڈ احکام ذبح 0