کیا یہودیوں کا ذبیحہ حلال ہے؟ میں ایک غیر مسلم ملک(ساؤتھ کوریا) میں رہتا ہوں، میں نے سنا ہے کہ یہودی اللہ پاک کی ہی عبادت کرتے ہیں اور اسی کے نام پر ذبح کرتے ہیں، میں نے انٹرنیٹ پر تلاش کیا تو اس کے جواز میں ان آیات کو پیش کیا گیا۔5۔4۔6۔118۔119 سب سے اہم دلیل سورۃ المائدۃ کی آیت نمبر5 ہے، ازراہِ کرم جتنا جلد ممکن ہومیری (الجھن) کو دور فرمائیے، میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔
اگر ذبح کرنے والا اہلِ کتاب سے ہو اور وہ بوقتِ ذبح اللہ تعالیٰ کے نام پر اور متعلقہ چاروں یا کم از کم تین رگوں کو کاٹ کر اسے ذبح کرے تو ایسا ذبیحہ شرعاً بھی جائز اور حلال ہے۔
اور اگر وہ اپنے عقائد ونظریات میں دہریہ ہو اور نہ ہی بوقتِ ذبح مذکورہ بالا شرائط ملحوظ رکھتا ہو تو اس کا ذبیحہ جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدرالمختار: وحل المذبوح لقطع أی ثلاث منھا اذا الاکثر حکم الکل اھ(6/295)۔
وفی تنویر الابصار: (وشرط كون الذابح مسلما(أو كتابيا ذميا أو حربيا) إلا إذا سمع منه عند الذبح ذكر المسيح (فتحل ذبيحتهما، ولو) الذابح (مجنونا أو امرأة أو صبيا يعقل التسمية والذبح) الخ
وفی الشامیة: (قوله يعقل التسمية إلخ) زاد في الهداية: ويضبط، وهما قيد لكل المعطوفات السابقة واللاحقة، إذ الاشتراك أصل في القيود، كما تقرر قهستاني، فالضمير فيه للذابح المذكور في قوله وشرط كون الذابح لا للصبي كما وهم.
وفیه أیضاً: ولاتحل ذبیحة من تعمد ترك التسمیة مسلماً او کتابیاً لنص القرآن ولإنعقاد الاجماع اھ(6/297)۔
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اگر اس کی کھال میں کیڑا نکل آئے، توایسی قربانی کاحکم
یونیکوڈ احکام ذبح 0