السلام علیکم !
گزارش یہ ہے کہ میں نے ساٹھ لاکھ روپے ایک ایسی جگہ انویسٹ کیے جو مجھے ماہانہ اس پر تقریباً پچاس ہزار کرایہ دیتے رہے ، دراصل یہ ایک مال (Mall) تھا جو میرے پیسے دینے کے وقت پر ابھی شروع بھی نہ نہیں ہوا تھا، لیکن میں نے ایک دکان کسی فلور پر ابھی سے لے لی اور انہوں نے اس کا کرایہ فوراً دینا شروع کر دیا، ایک سال کے بعد انہوں نے اس انویسٹمنٹ پر مجھے ٪20 نفع بھی دیا، ان کے مطابق یہ کرایہ اصل میں ڈسکاؤنٹ ہے جو وہ اکھٹی پیمنٹ پر دیتے ہیں، جو لوگ ڈسکاؤنٹ نہیں لیتے ان کو ماہانہ کرایہ کی شکل میں پیسے دیے جاتے ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ راہ نمائی فرمائیں کہ یہ حلال ہے یا حرام ؟
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں، بایں طور کہ سائل کی طرف سے مذکور دکان کی اکھٹی پیمنٹ کرنے پر اس کو ماہانہ کرایہ کی شکل میں ایک سال سے جو ڈسکاؤنٹ مل رہا ہے اس کی کیا حد ہے اور کب تک ملتا رہے گا؟ اور اب جبکہ سائل کو ڈسکاؤنٹ بھی ہر ماہ موصول ہو رہا ہے تو پھر اسے الگ سے ملنے والے % 20 نفع کا کیا مطلب ہے؟ براہ کرم معاملہ کی مکمل وضاحت کر کے سوال دوبارہ ارسال فرمادیں، ان شاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا۔