میری شادی کو 6 ماہ ہو چکے ہیں اور پہلے دن سے میری بیوی میری باتوں سے زیادہ اپنے ماں اور باپ کی باتوں کو اہمیت دیتی ہے، اور بد زبانی کرتی ہے، اور اب وہ میری اجازت لیے بغیر میری غیر موجود گی میں اپنی ماں کے گھر چلی گئی ہے ،شریعت اس بیوی کے بارے میں کیا حکم دیتی ہے جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہے اور مجھے کیا کرنا چاہیے ؟
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعہ درست اور مبنی بر حقیقت ہو ،تو سائل کی بیوی کا یہ طرزعمل انتہائی نامناسب ہے ، جس کی وجہ سے وہ گنہگار ہو رہی ہے ، اس پر لازم ہے کہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنے اور اس کے ساتھ بد زبانی کرنے سے اجتناب کرے، جبکہ سائل کو بھی چاہیے کہ وقتا فوقتا بیوی کو ماں باپ کے ہاں جانے کی اجازت دیا کرے، اور اس کے ساتھ ساتھ اسے از خود یا خاندان کے باثر افراد کے ذریعے سمجھانے کی کوشش بھی کرتارہے، ان شاء اللہ امید ہے کہ وہ اپنے طرز عمل سے باز آجائے گی۔
کما في التاتار خانية: ان للزوج ان يضرب امراته على اربع خصال وما هو في معنى الاربع احدهما لترك الزينة لزوجها والزوج يريدها ( الی قوله) والرابع على الخروج من المنزل اھ (305/2) ۔
وفي الشامية: والذي ينبغى تحريره ان يكون له منعها عن كل عمل يؤدى الى تنقيص حقه او ضرره او الى خروجها من بيته اھ(603/3)۔