کیا بیوی شوہر کی مرضی کے خلاف کام پر جا سکتی ہے ؟
واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ نے عورت پر اس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری نہیں ڈالی ، بلکہ نکاح سے قبل اسکے والد اور بھائیوں وغیرہ اور نکاح کے بعد اس کے شوہر پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر اس ذمہ داری کو پورا کر رہا ہو اور اسکے علاوہ بھی کوئی شرعی مجبوری نہ ہو تو ایسی صورت میں بیوی کو شوہر کی اجازت کے بغیر ملازمت کیلئے گھرسے باہر نہیں جانا چاہیئے تاہم شوہر کی اگر کوئی شرعی مجبوری ہو تو اس کی تفصیل لکھ کر جواب معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کما قال الله تعالى: { وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى}۔الآیة [الأحزاب: 33]
وفي الفقه الاسلامي وادلته: عن ابن عمر رضى الله عنهما قال رايت امراة اتت الى النبي ﷺ وقالت يا رسول الله ما حق الزوج على الزوجة قال حقه عليها الا تخرج من بيتها الاباذنه۔اھ (7/336)
وفي الهداية: النفقة واجبة على زوجها مسلمة كانت او كافرة اذا اسلمت نفسها الى منزلة فعليه نفقتها وكسوتها وسكناها۔اھ (2/437)