میری بیوی میرے ساتھ نہیں سوتی، وہ پچھلے ایک سال سے زیادہ عرصے سے میرے بستر پر نہیں آئی، پہلے اس نے وجہ بیماری بتائی ، اب میری بہن نے اس سے پوچھا اس نے کہا کہ میں بیمار نہیں ہوں۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائل کی بیوی کا بغیر کسی عذر کے سائل کے حقوق پورے نہ کرنا اور اس میں کو تاہی سے کام لینا شر عاً جائز نہیں، لہذا سائل کی بیوی کو چاہیے کہ سائل کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کرے۔
کما في صحيح مسلم: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه، فلم تأته، فبات غضبان عليها، لعنتها الملائكة حتى تصبح» اھ (2/ 1060)
وفي فتح الباري: عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي ﷺ قال: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه، فأبت أن تجيء، لعنتها الملائكة حتى تصبح» اھ (9/ 294)
وفيه ايضا: وقد وقع في رواية يزيد بن كيسان عن أبي حازم عند مسلم بلفظ والذي نفسي بيده ما من رجل يدعو امرأته إلى فراشها فتأبى عليه إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها حتى يرضى عنها اھ (9/ 294)
وفي بدائع الصنائع: وللزوج أن يطالبها بالوطء متى شاء إلا عند اعتراض أسباب مانعة من الوطء كالحيض والنفاس والظهار والإحرام وغير ذلك اھ (2 / 331)