السلام علیکم
میری ابھی شادی ہوئی ہے (7) مہینے پہلے , میں نے پسند کی شادی کی ہے ،پراپر طریقے سے ,
میری بیوی ڈاکٹر ہے ، اس نے شادی کے بعد جاب کی (4) مہینے ،لیکن پھر اچانک امی نے بولا جاب نہیں چلے گی یہاں ، تم جاب چھوڑ دو ، اور اس پر اسے ذلیل کیا گیا ،میرے سسرکوبھی کال کی , انہوں نے جاب چھوڑنے کا بولا کہ چھوڑ دو، بڑے ہیں مان لو ان کی بات ، لیکن میں نہیں چاہتا تھا جاب چھوٹے، پھر اس کے ساتھ روز عجیب رویہ ہو تا رہا ایک دن میں نے اپنی امی سے اکیلے میں بات کی تو وہ غصہ ہو گئی کہ تمہاری بیوی تمہیں میرے خلاف کر رہی ہے اور بہت ہنگامہ ہوا ،اور امی نے کہا کہ اس کو طلاق دو اور نکالو یہاں سے ، وہ گھر کے سارے کام بھی کر رہی تھی ، لیکن امی نے کہا اسے اس کے گھر چھوڑ آؤ، میں نے ابھی اس کو اس کے گھر پر رکھا ہوا ہے ، اب میری بیوی بول رہی کہ میں ان کے ساتھ نہیں رہونگی اور میرے امی ، ابو مجھے الگ نہیں ہونے دے رہے ، میں نے معاملہ حل کرنے کے لئے کہا کہ میں نیچے والے فلور پر شفٹ ہو جاتا ہوں ، آ پ لوگ بڑے بھائی اور بھابھی کے ساتھ اوپر والے فلور پر رہ لیں اس سے میں الگ بھی نہیں ہو نگا ،میری بیوی بھی سکون سے رہے گی اور آپ بھی، لیکن وہ اس پر بھی نہیں مان رہی ، میری اصلاح فرمادیں مجھے بس ڈریہ ہے کہ میں کوئی گناہ نہ کر دوں ماں باپ کی بات نہ مان کے یا اپنی بیوی کو طلاق دے کے۔
سائل کا بیان اگر واقعۃْ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو تو سائل کی والد ہ کامذکور طرزِ عمل اور معمولی معمولی باتوں پر بیٹے کو طلاق پر اکسانا درست نہیں ، وہ اپنے اس طرزِ عمل کی وجہ سے سخت گناہ گار ہورہی ہے ان پر لازم ہے کہ اپنے اس عمل سے تو بہ کر کے بہو کو گھر آنے کی اجازت دیدے اور بیٹے کے گھر کو اجاڑنے سے باز رہے، اور سائل کو چاہیئے کہ از خود یا برادری کے بڑوں اور با اثر حضرات کے ذریعہ اپنے والدین کو سمجھا کر مذکور عمل سے باز رکھنے کی کوشش کرے لیکن اسکے باوجود بھی اگر وہ اپنے مذکور عمل سے باز نہ آسکیں اور سائل کو طلاق دینے پر مجبور کریں تو سائل کے لئے والدین کے کہنے پر بغیر کسی شرعی عذر کے بیوی کو طلاق دینا لازم نہیں ، اور نہ ہی اسکی وجہ سے سائل والدین کا نا فرمان شمار ہو گا ،جبکہ رہائش کے متعلق حکم یہ ہےکہ اگر مذکور مکان میں بیوی کے لئے کسی ایسے علیحدہ کمرے کا اٹیچ باتھ روم اور کچن کیساتھ انتظام ہو جائے جس میں وہ بحفاظت اپنا ساز و سامان رکھ سکے اور اس میں کسی اور کا کوئی عمل دخل نہ ہو اور سائل کے والدین بھی راضی ہوں تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ بیوی کے لئے علیحدہ رہائش کا انتظام کرنا لازم نہ ہو گا ،ورنہ بیوی کے لئے علیحدہ رہائش کا انتظام کرنا لازم ہے، لیکن اس کے لئے حکمت و بصیرت کے ساتھ کوئی ایسا طریقہ کار اپنائے کہ جو والدین کی دل آزاری اور ایذا رسائی کا باعث نہ ہو۔
كما في التنزيل العزيز: لا يكلف الله نفساً الاوسعها الآية (البقرة: 286)۔
وفي مشكاة المصابيح عن ابن عمر أن رسول الله قال: وهو على المنبر وهويذكر الصدقة والتعفف عن المسئلة اليد العليا خير من اليد السفلى واليد العليا هي المنفقة والسفلى هي السائلة (ج : 1 ص : 162)۔
وفي الفتاوى الهندية : قال: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين او ذميين قدرا على الكسب أو لم يقدر( إلى قوله )وان كان للرجل المعسر زوجة ليست أم ابنه الكبير لم يجبر الابن على ان ينفق على امرأة أبيه (إلى قوله) والام اذا كانت فقيرة فانه يلزم الابن نفقتها وان كان معسراً اھ ( ج : 1 ص: 506)۔