میرے خاوند سعودی عرب میں نوکری کرتے ہیں اور میں پاکستان میں اپنی دو بچیوں کے ساتھ رہتی ہوں اور نوکری کرتی ہوں،میرے خاوند مسلسل انہی باتوں میں ناراض رہتے ہیں کہ میں ان کے کزنز یا کہیں دعوت ہوتی ہے تو ان کےہاں نہیں جاتی،جبکہ ہمیں لے جانے کے لئے کوئی سواری بھی موجود نہیں،ہم اکیلے رات دعوتوں میں جانا نہیں چاہتے،یہی کہتے ہیں کہ آپ آئیں تو آپ کے ساتھ مل کر جائیں گے،لیکن بضد ہوتے ہیں کہ میں ان کے کزنز اور دوسرے خاندان میں جا کرملوں،اس سلسلے میں کیا حکم ہے؟ کیا واقعی ہمیں اکیلے جانا چاہیئے؟ جبکہ ہمارے پاس نہ گاڑی ہے نہ کوئی لے جانے والا۔
سائلہ کے سسرالی خاندان میں اگر کوئی تعزیت یا دعوت وغیرہ ہو اور وہ اسے مدعو کرلیں تو اس کے لئے پردۂ شرعیہ کا لحاظ رکھتے ہوئے اس میں شرکت کرنے کی اجازت ہے اور اس سے شوہر کی بھی دل جوئی ہوگی،تاہم اگر سائلہ کے پاس آمد و رفت کا کوئی مناسب انتظام نہ ہو یا وہاں پر بےپردگی کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں وہاں جانا مناسب نہیں اور اس سلسلہ میں سائلہ اپنے شوہر کو مناسب طریقہ سے سمجھانے کی کوشش کرے،تاکہ دونوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔
کماقال اللہ تعالیٰ: وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ(النور:31 الآیة)۔
وفی احکام القرآن:تحت ھذہ الآیة:قال ابوبکر فی ھذہ الآیة دلالة علی ان المرأة الشابة مامورة بستر وجھھا عن الاجنبیین واظھار الستر والعفاف عند الخروج لئلا یطمع اھل الریب فیھن اھ(3/486)۔
وفی الدر المختار:(وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة لأنه أغلظ اھ(1/406)۔