السلام علیکم !
حضرت مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میری سالی کا شوہر پچھلے چار سال سے الگ ہے،نہ کوئی حقوق ادا کرتا ہے اور نہ ملنے آتا ہے اور نہ کوئی رابطہ ہے ان سے،ویسے یہ دونوں آپس میں کزن ہیں ،اس کے تین بچے ہیں،لڑکے کے امی ابو آتے ہیں ملنے کے لئے، اس بارے میں شریعت کیا حکم دیتی ہے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ اس کے ہم زلف اور اس کی بیوی کے درمیان اتنے عرصے سے علیحدگی کیوں ہے؟ کیا ان کے درمیان صلح ومصالحت کی کوشش کی گئی ہے یا نہیں؟ نیز وہ اس رشتہ کو نبھانا بھی چاہتا ہے یا نہیں؟ تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم سائل کے ہم زلف کا اپنی بیوی بچوں کے ساتھ قطعِ تعلق کرنا اور ان کے جائز حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرنا شرعاً واخلاقاً درست نہیں، بلکہ اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہورہا ہے،اس لئے اس پر لازم ہے کہ بڑوں کے ذریعہ باہمی اختلافات اور رنجشوں کو ختم کراکر اپنی بیوی بچوں کے حقوق کی ادائیگی اور گھر بسانے کی فکر کرے،سائل سمیت گھر کے ذمہ دار لوگوں کو بھی اس میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیئے،البتہ اگر وہ کسی صورت بھی اس رشتہ کو نبھانے کے لئے تیار نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ بیوی کو اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کردے،تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکے،جبکہ بچوں کے نان ونفقہ اور دیگر ضروری اخراجات بہر حال بچوں کے والد کے ذمہ لازم ہوں گے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (البقرة:229 الآیة)
وفی صحیح البخاری عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: جاءت امرأة ثابت بن قيس بن شماس إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، ما أنقم على ثابت في دين ولا خلق، إلا أني أخاف الكفر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فتردين عليه حديقته؟» فقالت:نعم، فردت عليه، وأمره ففارقها اھ(7/47)۔
وفی الدر المختار: ولا باس بة عند الحاجة للشقاق بعدم الوفاق بما یصلح للمھر الخ
وفی الشامیة: قوله للشقاق أی لوجود الشقاق وھو الاختلاف والتخاصم وفی القھستانی عن شرح الطحاوی السنة إذا وقع بین الزوجین اختلاف أن یجتمع اھلھما لیصلحوا بینھما،فان لم یصطلحا جاز الطلاق والخلع ،وھذا ھو الحکم المذکور فی الآیة (3/441)۔