مفتی صاحب ! مجھے یہ بتائیں کہ طلاق کے بعد کون سی چیزیں دلہا اور دلہن کو واپس کرنی ہے؟
لڑکی کو شادی کے موقع پر اس کے اپنے والدین کی طرف سے جہیز کی صورت میں اور دیگر عزیز واقارب کی طرف سے جو سامان وغیرہ بطور ہدیہ دیا جاتا ہے ، اسی طرح جو زیورات وغیرہ شوہر اور ان کے والدین کی طرف سے حق مہر یا بطور ہدیہ با ضابطہ مالک و قابض بنا کر دیئے جاتے ہیں، وہ تمام ساز و سامان بیوی کی ملکیت ہے ، بصورت طلاق اس کا روکنا شوہر یا سسرال والوں کے لیے شرعا جائز نہیں، البتہ وہ سامان یا زیور جو شوہر یا ان کے والدین کی طرف سے صرف استعمال کے لیے عاریۃً دیا گیا ہو ، وہ شوہر اور اس کے والدین کی ملکیت ہے ، لہذا طلاق کی صورت میں مذکور سامان اور زیور واپس کرنا عورت پر لازم ہے ، اس کا روکنا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما فى الدر المختار: (ولو دفعت في تجهيزها لابنتها أشياء من أمتعة الأب بحضرته وعلمه وكان ساكتا وزفت إلى الزوج فليس للأب أن يسترد ذلك من ابنته) لجريان العرف به (وكذا لو أنفقت الأم في جهازها ما هو معتاد والأب ساكت لا تضمن) الأم اھ (3/ 157)
و في الفتاوى الهندية: الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء اھ (1/ 303) واللہ اعلم بالصواب