میرے اور میرے شوہر کے درمیان 16 سال سے کوئی جذباتی اور نہ کوئی از دواجی تعلق رہا ، اور نہ ہی انہوں نے مجھے طلاق دی ہے، میری عمر 45 سال ہے، مہربانی فرما کر آپ رہنمائی فرمائیں ،کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ نا جائز تو نہیں رہ رہے ہیں۔
واضح ہو کہ میاں بیوی کا فقط ایک دوسرے سے الگ رہنے سے چاہے جتنا لمبا عرصہ کیوں نہ ہو شرعاًدونوں کا نکاح ختم نہیں ہوتا ،جب تک کہ شوہر طلاق ،خلع یا فسخِ نکاح کے ذریعہ اسے اپنی زوجیت سے الگ نہ کر دے ،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے طلاق نہیں دی ہے ،محض ایک دوسرے سے الگ رہ کرازدواجی تعلقات قائم نہ کرنے سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ دونوں کا نکاح بدستور برقرا ر ہے، اب بھی دونوں کا ایک ساتھ رہنا شرعاًجائز اور درست ہے، البتہ اگر دونوں کے درمیاں نباہ ممکن نہ ہو اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوں، تو سائلہ اپنے شوہر سے طلاق یا خلع لیکر عدت کے بعد دوسری جگہ بھی کرسکتی ہے ۔
فی الدر المختار : و شرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق ، اھ (3/227)-
و فی الہندیہ : (أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق(و أما ركنه) فقوله : أنت طالق . و نحوه كذا في الكافي اھ (1 348)-