ترجمہ :السلام علیکم ، میرا سوال یہ ہے کہ میرا شوہر بد فعلی میں پڑ گیا ہے ،بری عورتوں کے پاس خود بھی جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہ کام کرواتے ہیں ایک ایجنٹ کہہ لیں آپ، مساج سینٹر وغیرہ جانا، کالز لڑکیوں وغیرہ سے، پہلے بات کی سمجھایا، قسم کھائی قرآن پر ہاتھ رکھ کر، مگر انکا یہ کام رکا ہی نہیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ ہونے لگا ہے، روزانہ یہ کام ہوتا ہے اب ، میرا سوال یہ ہے کہ ایک بیوی کو کیا کرنا چاہئے ایسے آدمی کیساتھ؟ رہنا چاہئے جبکہ بیوی کو بیوی نہیں سمجھتانہ پرواہ ہے بیوی بچوں کی ، میرے دو بیٹے ہیں ایک دس سال کا دوسرا پانچ سال کا ، میں بہت پریشان ہوں مجھے کوئی حل بتائیں شریعت کےحساب سے، ہر مہینے ملتان جاتے ہیں چار دن کیلئے اکیلے، اور وہاں بہت غلط اور گندے کام ہوتے ہیں ساری ساری رات، کچھ کہہ دو پوچھ لو تو آگے سے لڑتے ہیں، میں جوائنٹ فیملی میں رہتی ہوں کوئی بھائی کچھ نہیں کہتا، کیونکہ کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آ رہا، بس سب موبائل سے پتہ چلتا ہے، جو مجھےموقع ملتا ہے تو چیک کرلیاکرتی ہوں، کیا کروں بہت پریشان ہوں اس شخص کو کوئی احساس نہیں، کیا کر رہا ہے، گناہ کر رہا ہے، اسکا اثر بچوں پر ہوگا، کوئی پرواہ نہیں بہت خوش اور بے فکر ہے کہ میں تو کسی کے ہاتھ آتا ہی نہیں، بہت چالاک انسان ہے، پلیز کوئی حل بتائیں مجھے اسکے ساتھ رہنا چاہئے کہ نہیں، کتنی دفعہ کہہ چکا ہے کہ دونوں بچوں کو لو اور دفعہ ہو جاؤ یہاں سے، میں کیا کروں سمجھ نہیں آتا، جواب کی منتظر۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ،تو سائلہ کے شوہر کا مذکور طرز عمل انتہائی قبیح اور تشنیع ہے ،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے ،لہذا سائلہ کے شوہر پر لازم ہے کہ اپنے مذکور عمل پر توبہ واستغفار کرے اور آئندہ اس طرح کے کاموں سے اجتناب کرے ،جبکہ سائلہ کو بھی چاہیئے کہ طلاق لینے میں جلد بازی سے کام لینے کے بجائے حکمت وبصیرت کے ساتھ از خود یا سمجھدار افراد کے ذریعے شوہر کو سمجھاکر مذکور طرز عمل سے باز رکھنے کی کو شش کرے ،لیکن اگر سمجھانے کے باوجود بھی وہ مذکور طرز عمل سے باز نہ آئے تو سائلہ اپنے والدین اور اہل خانہ کی مشاورت سے اس کے ساتھ رہنے یا اس سے علیحدگی اختیار کرنے کے متعلق فیصلہ کر سکتی ہے ۔
فی الشامیۃ :(قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة) ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى والفجور يعم الزناوغيره(6/427)