﷽
السلام علیکم می نام :جمشید ظفر خٹک ہے، اور میں ڈسٹرکٹ اٹک تحصیل جنڈ کا رہنے والا ہوں ،میں نےڈسٹرکٹ ایبٹ أباد سے شادی کی ہے ٢٠١٢ میں , اب میری دو بیٹیاں ہیں جنکی عمر ١١ سال کےقریب ہے، اور ایک بیٹا ہے جسکی عمر ٨ سال کے قریب ہے، میری شادی کو ١١ سال ہو گئے، میری شادی سے لیکر اب تک میری بیوی ایبٹ آباد میں ہی رہی ہے،کیونکہ میں أرمی میں سروس کرتا تھا ،اور بیوی کاقول تھا کہ ریٹائرمنٹ کےبعد میرے ساتھ اٹک میں آباد ہوگی ، لیکن وہ دوسری مرتبہ اپنے قول سےانکاری ہے ، اور اب کہتی ہے، کہ میں اٹک نہیں جاؤنگی ، ایبٹ آباد ہی جگہ لیکر گھر بناؤ , تو رہونگی، نہیں تو مجھے طلاق دے دو ، میرے بچوں کے ذہن میں میرے خلاف نفرت ڈالتی ہے، اور کہتی ہےکہ آ پ کا والد ظالم ہے، اور جھوٹا ہے، اسکے ساتھ کہیں نہ جایا کرو ، تمہیں اغواء کر کے لے جائے گا ،اور میرے بچوں کو میرے اور میرے والدین سے دور کر رہی ہے ، اور مجھے بھی میرے والدین سے دور کر رہی ہے، میں اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں مجھ پر میرے والدین بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں ہیں،اور جہان داریاں بھی کرنی ہیں، اور میرے ازدواجی حقوق بھی ادا نہیں کرتی ، اور زبان دراز اور دھوکہ باز عورت ہے، اور اسکی نظر میں صرف پیسے کی اہمیت ہے، میری کوئی اہمیت نہیں ہے ، بس وہ چاہتی ہے کہ میں اسکے ساتھ ساتھ اسکے والدین بہن بھائی کی بھی پرورش کرتا رہوں، جھوٹی مکار عورت ہے، ماہانہ خرچہ اپنا اور بچوں کا لیتی ہے، اور اپنے والدین کو کھلاتی ہے، اور جھوٹ بولتی ہے، کہ میں اسے خرچہ نہیں دیتا ، میں طلاق کے حق میں نہیں ہوں، قرأن کی روشنی میں مجھے فتوی دیا جائے -
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ،اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو ،اس طور پر کہ سائل اپنی بیوی کے تمام حقوق ادا کر رہا ہو ،لیکن اس کے باوجود وہ اپنی شوہر کی نافرمانی اور بچوں کو اپنے والد کے خلاف بھڑکانے اور ان کی ذہن سازی کر رہی ہو ،تو اس کا یہ طرزِ ِعمل شرعاً درست نہیں ،اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہورہی ہے ،اس پر لازم ہے کہ اپنے اس غلط طرزِ ِعمل سے باز آئے اور اپنے گھر کو برباد نہ کرے ،سائل کی بیوی کو چاہیئے کہ شوہر کے ساتھ اس کے شہر میں رہنے کی پوری کوشش کرے ،نیز بلا وجہ طلاق کا ہرگز مطالبہ نہ کرے ،احادیثِ مبارکہ میں ایسی عورت کے بارے میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،چنانچہ ایک حدیث شریف میں آتا ہے "کہ جو عورت اپنے شوہر سے بلا وجہ طلاق کا مطالبہ کرے،اس پر جنت کی خوشبو تک حرام ہے "اس لئے سائل کی بیوی کو چاہیئے کہ اپنے اس ناجائز اور غلط مطالبات سے مکمل اجتناب کرے۔
فی سنن ابی داؤود : عن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس ، فحرام عليها رائحة الجنة» اھ (2/268)۔
و فی الرد : و أما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر ، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه ، و هو معنى قولهم الأصل فيه الحظر و الإباحة للحاجة إلى الخلاص ، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا و سفاهة رأي و مجرد كفران النعمة و إخلاص الإيذاء بها و بأهلها و أولادها ، و لهذا قالوا : إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق و عروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى اھ (3/228)۔