میرے شوہر میرا حقِ زوجیت ادا نہیں کرتے،پہلی بیوی کے ساتھ حقوق ادا کرتے ہیں، میرے نہیں،حقِ زوجیت ادا نہ کرنا صحیح ہے یا غلط؟ براہِ مہربانی جواب دیجئے۔
شریعتِ مطہرہ نے میاں بیوی کے مابین حقِ زوجیت کی ادائیگی کا معاملہ زوجین کی رضامندی اور ان کی طبیعت پر چھوڑا ہے،اسی وجہ سے شوہر کے ذمہ اپنی بیویوں کے درمیان حقِ زوجیت(جماع) کے اعتبار سے برابری بھی لازم نہیں،لہذا اگر سائلہ کا شوہر دونوں بیویوں کے درمیان نان ونفقہ اور رات گزارنے میں برابری کا اہتمام کرتا ہو، تو محض حقوقِ زوجیت میں برابری نہ کرنے کی وجہ سے وہ گناہ گار نہ ہوگا، لیکن جب دوسری بیوی کی طرف سے حقِ زوجیت ادا کرنے کا کبھی کبھارمطالبہ ہو اور شوہر اس پر قادر بھی ہو تو اسے اس کی جائز خواہش پوری کرنے کا اہتمام کرنادیانۃً لازم ہے ،تاکہ کسی قسم کے فتنے میں مبتلا ہونے سے حفاظت ہوسکے۔
کماقال اللہ تعالیٰ: فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا (النساء:3الآیة)
وفی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:قوله تعالیٰ(فَإِنْ خِفْتُمْ)شرط وجوابه(فَانْكِحُوا)أی إن خفتم الاتعدلوا في مھورھن وفی النفقة علیھن (6/23)۔
وفی سنن ابی داؤد: عن ابی ھریرة۔رضی اللہ عنه۔ عن النبی ﷺ قال: من کانت له امرأتان فمال الیٰ احدھما جاء یوم القیامة وشقه مائل اھ(3/481)۔
وفی الدر المختار: (يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب. ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحيانا ولا يبلغ الإيلاء إلا برضاها اھ(3/201)۔
وفی فتاوی قاضیحان: ومایجب علیٰ الأزواج للنساء العدل والتسویة بینھن فیما یملك وھو البیتوتة عندھا للصحبة والمؤانسة لافیما لایملك وھو الحب والجماع، لان الحب عمل القلب والجماع یبنی علیٰ النشاط وکل ذلك لایتعلق باختیارہ،الیه اشار رسول اللہ ﷺ فقال: ھذا قسمی فیما املك ولا تؤاخذنی فیما لااملك اھ(2/145)۔
وفی الفتاوی البزازیة: المریضة والصحیحة فیه(القسم) سواء والتسویة فی الوطء غیر لازم فی الظاھر اھ(2/145)۔