میری 10 سال کی بیٹی اور 9 سال کا بیٹا ہے ، دو بچے ہیں، مجھے اور اولاد کی خواہش ہے، میرے شوہر نہیں چاہتے ، بہت بار جھگڑا ہو چکا ہے، بہت اچھا کھاتے کماتے ہیں ماشاء اللہ ! میرا کیا حق ہے شریعت میں ؟
سائلہ نے یہ ذکر نہیں کیا کہ اس کے شوہر کیوں مزید اولاد کی خواہش نہیں رکھتے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر اس کی کوئی معقول وجہ نہ ہو تو ایسی صورت میں چونکہ وقتا فوقتا شوہر کے لیے بیوی کے ازدواجی حقوق پورے کرنا بیوی کا حق ہے، اور اولاد کی پیدائش میں رکاوٹ کے لیے بیوی کی اجازت ورضامندی کے بغیر کوئی تدبیر اختیار کرنا مکروہ ہے، اس لیے سائلہ کے شوہر کے لیے بلا کسی عذر کے سائلہ کے ازدواجی حقوق پورے نہ کرنا یا سائلہ کی اجازت کے بغیر اولاد کی پیدائش میں رکاوٹ کے لیے کوئی تدبیر اختیار کرنا بیوی کی حق تلفی پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں، جس سے اسے احتراز لازم ہے۔
كما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ولا بأس للرجل أن يعزل عن أمته بغير إذنها (وأما) المنكوحة فإن كانت حرة يكره له العزل من غير إذنها بالإجماع لأن لها في الولد حقا و في العزل فوت الولد ولا يجوز تفويت حق الإنسان من غير رضاه فإذا رضيت جاز اھ (5/ 126)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله: والإذن في العزل لسيد الأمة) لأنه يخل بمقصود المولى وهو الولد فيعتبر رضاه وهذا هو قول أبي حنيفة وصاحبيه في ظاهر الرواية وعنهما في غيرها: أن الإذن لها وهو ضعيف قيد بالأمة أي أمة الغير لأن العزل جائز عن أمة نفسه بغير إذنها، والإذن في العزل عن الحرة لها ولا يباح بغيره لأنه حقها اھ (3/ 214) والله اعلم بالصواب