خدمت عالیہ میں گزارش ہے کہ میری شادی 2010 میں ہوئی ، میری ایک 12 سال کی بیٹی طیبہ ہے، بیٹی کے علاوہ دوسری کوئی اولاد نہیں ، گزشتہ کچھ سالوں سے سسرال والوں کے ایما ء پر زوجہ گاؤں میں مستقل رہائش اختیار کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے، میرا ذریعہ معاش وآمدن کراچی میں ہے، ذاتی ملکیتی مکان کراچی میں ہے ، گاؤں میں نہ ذریعہ معاش ہے، نہ ذاتی ملکیتی رہائش گاہ ، ہر سال زوجہ کا گاؤں جانے سے نہ صرف میری خون پسینے کی کثیر آمدنی برباد ہوتی ہے، بلکہ میری واحد دختر کی دینی وعصری تعلیم بھی تباہ ہوگئی ہے ، بارہ سالہ بیٹی کو نہ نماز آتی ہے ، نہ قرآن ناظرہ سے پڑھنا آتا ہے ،عصری تعلیم پر کثیر رقم خرچ کرتا ہوں ، لیکن وہ بھی برباد ،سسرال والے میری بیٹی کا مستقبل تباہ کررہے ہیں ، باپ کی شفقت سے محروم بغیر تعلیم و تربیت کے کیا میری یہ بیٹی اپنے لئے اور میرے لئے دنیا وآخرت میں خیر کا باعث بنے گی ، اس کے علاوہ بیوی اور سسرال والے میری بیٹی کو میرے خلاف اکساتے ہیں ، سسرال والوں کے ایما ء پر بیوی مجھے ایسی غلیط گالیاں دیتی ہے کہ جن کو سپرد قلم نہیں کیا جاسکتا ،تہذیب واخلاق اور اعلیٰ انسانی اقدار ایسی گالیاں لکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے ، میں بیوی کی تمام شرعی حاجات کو مکمل طور پورا کرتا ہوں ، کوئی کمی نہیں چھوڑتا ، بیوی اس وقت گاؤں ضلع مانسہرہ میں گزشتہ 3 ماہ سے سسرال والوں کے ایما ء پر قیام پذیر ہے ، اور میں کراچی میں ہوں ، بیٹی کراچی میں ایک اچھے نجی سکول میں داخل ہے،گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہوگئیں،لیکن سسرال والوں نے بیوی اور بیٹی کو گاؤں میں غیر قانونی غیر شرعی طور پر روکا ہوا ہے ،آپ سے میری درخواست ہے کہ مذکورہ بالاحقائق کو پڑھنے کے بعد قرآن وتعلیمات محمدیﷺ کی روشنی میں بیوی اور سسرال کے مذکور کردار اور طرز عمل کے متعلق جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق سائل کی بیوی اور سسرال والوں کا مذکور طرز عمل انتہائی نامناسب اور شرعا ناجائز ہے ، جس سے انہیں احتراز لازم ہے، سائل کو چاہیئے کہ اگر ازخود حالات پر قابو پانا مشکل ہو تو خاندان کے بڑوں کے ذریعے بیوی اور سسرال والوں کو سمجھا کر مذکور طرز عمل سے باز رہنے اور اپنے گھر کو آباد کرنے کی تلقین کرے ، اور ساتھ دعاؤں کا بھی اہتمام کرے ، امید ہے کہ ان شاء اللہ اس سے فائدہ ہوگا،تاہم اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود بھی وہ اپنے طرز عمل سے باز نہ آئےتو ایسی صورت میں سائل اس کو طلاق دے کر اپنے نکاح کے بندھن سے بھی آزاد کر سکتا ہے ، اور اس صورت میں سائل گناہ گار بھی نہ ہو گا، جبکہ بیٹی کی عمر نو (9) سال سے زائد ہونے کی صورت میں سائل بیٹی کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے ، بیوی اور سسرال کیلئے اسکو روکنا شرعا جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ۔