السلام علیکم! میری شادی کو تقریباً چار سال ہو گئے ہیں، شروع میں ساس، سسر ، اور نند کے جھگڑوں کی وجہ سے میرا شوہر مجھے بہت مارتا پیٹتا تھا، اس پورے عرصے میں میں نے کبھی بھی اپنے گھر جانے کا فیصلہ یا گھر والوں کو ایک بات نہیں بتائی میں نے گزارا کیا، اب مسئلہ یہ ہے کہ میں پچھلے ایک سال سے جو کما رہی ہوں اسی سے ہمارا گھر چل رہا ہے، لڑائی، جھگڑا اور مارپیٹ کی وجہ سے میں ذہنی مریض بن چکی ہوں، انجیکشن اور گولیاں کھاتی ہوں،خود کو نقصان پہنچاتی ہوں، اب میں بالکل پاگل ہو چکی ہوں، ذہنی مریض بن چکی ہوں، میرا میرے شوہر سے بالکل ہی دل اُٹھ گیا ہے، میرے گھر والے کہتے ہیں گزارا کرو، موقع دے دو ،لیکن اب یہاں میری بس ہو گئی ہے، پلیز مجھے بتائیں میں کیا کروں ؟ میرے گھر والے کہتے ہیں چھ مہینے، ایک سال اس سے لکھ کر لے لیتے ہیں اور تم ہمارے ساتھ ہمارے گھر چلو یہ ٹھیک ہو جائے گا، مگر کیا گارنٹی ہے کہ چھ مہینے، سال میں اپنی ماں کے گھر ناراض ہو کے بیٹھ جاؤں اور پھر واپس یہاں آؤں اور دوسرا بچہ، تیسرا بچہ پیدا ہو جائے اور یہ بندہ بالکل ٹھیک نہ ہو، گھر والے بات سمجھنے کو تیار نہیں ہیں، کمپرومائز کا کہتے ہیں اور میری ذہنی حالت ذہنی سکون کو ترجیح نہیں دے رہے، میں نہ مالی طور پر اپنے شوہر سے خوش ہوں نہ دماغی طور پر اور نہ ہی جسمانی طور پر، پلیز مجھے بہترین مشورہ دیں، کیونکہ میرے گھر والے طلاق کے لیے، علیحدگی کے لیے راضی نہیں، وہ اب بھی کہتے ہیں اس کو مزید موقع دے دو۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کا شوہر سائلہ کو بلا وجہ مارتا پیٹتا ہو تو اس کا مذکور طرزِ عمل شرعاً جائز نہیں جس سے اسکو احتراز لازم ہے، سائلہ کو چاہیئے کہ خاندان کے با اثر افراد کے ذریعے شوہر کو سمجھانے کی پوری کوشش کرے، اور ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعاؤں کا بھی اہتمام کرے، اور سسرال والوں کی طرف سے تکلیف پر صبر سے کام لے، لیکن اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود سائلہ کا شوہر اپنی حرکت سے باز نہ آئے اور ہر وقت لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئے اس رشتہ کو برقرار رکھنا مشکل ہو ،تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائلہ شوہر سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعے جدائی بھی اختیار کر سکتی ہے، اور اس صورت میں سائلہ گناہ گاربھی نہ ہوگی۔
کما فی سنن الترمذي : عن ثوبانؓ أن رسول الله ﷺ قال أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير بأس فحرام عليها رائحة الجنة۔الحدیث (224/1)
و فی الدر المختار : (و لا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (و فی رد المحتار تحت) (قوله للشقاق) أي لوجود الشقاق و هو الاختلاف و التخاصم . و في القهستاني عن شرح الطحاوي السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما ، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق و الخلع۔اھ (441/3)
و فی الھدایة : أن کان النشوز من قبله یکرہ ان یاخذ منھا عوضا اھ (413/2) واللہ اعلم