السلام علیکم:
میرا سوال ہے کہ میں نے ایک اسکول خریدا تھا اور اُس کے پیسے ایک دوست کو کہا کہ وہ ادا کردے جس نے میرے کہنے پر 2 لاکھ روپے ادا کر دیے اور ایک سال کے وقت کا تعین کیا اور کچھ دن بعد اُس نے کہا کہ آپ مجھے 3 لاکھ روپے ادا کریں جس پر میں نے کہا کہ یہ سراسر سُود ہے۔ جس کے بعد وہ دوبارہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ جب تک آپ مجھے 3 لاکھ نہیں دے دیتے تو آپ مجھے ہر ماہ 25000 روپے منافع کے دیں۔ جس پر میں نے اُسے منع کر دیا اور کہا کہ جو اصل رقم 2 لاکھ روپے بنتی ہے اور وہ نہیں مان رہا۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں
اگرسائل کے دوست نے سائل کو محض قرض کے طورپر دو لاکھ روپے دیئے تھے، تو سائل کے ذمہ اپنے دوست کو مقرر وقت پر دو لاکھ روپے ہی کی ادائیگی لازم اور ضروری ہے، اس کا دو لاکھ روپے پر اضافی ایک لاکھ روپے یا منافع کے نام پر ماہانہ پچیس ہزار روپے کا مطالبہ کرنا شرعاسود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
قال اللہ تعالی:
یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَo (البقرة، الآیۃ: 278)
وفی السنن الکبری للبیہقي:
عن فضالۃ بن عبید صاحب النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أنہ قال: کل قرض جر منفعۃ فہو وجہ من وجوہ الربا اھ (باب کل قرض جر منفعۃ فہو ربا، رقم الحدیث: 11092)