السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! میرے شوہر الحمد للہ حافظ و عالم ہے ، لیکن کبھی نماز کیلئے مسجد نہیں جاتے ، بہت اصرار کرو تو دن میں ایک بار جاتے ہیں ، اور باقی کیلئے کہتے ہیں کہ مسجد دور ہے ، ہمارے گھر کے برابر میں مسجد ہے لیکن وہ بریلویوں کی ہے ، اور دیوبندی مسجد آدھا کلو میٹر دور ہے ، ہم نے یہی دیکھ کر شادی کی تھی کہ لڑکا دیندار ہے لیکن اب یہ مسئلہ ہو رہا ہے ، مجھے کیا کرنا چاہئے رہنمائی فرما دیں ۔
واضح ہو کہ جماعت کی نماز سنتِ مؤکدہ بلکہ قریب الی الواجب ہے ، اور بغیر کسی مجبوری و عذرِ شرعی کے جماعت چھوڑنا جائز نہیں ، اس لئے سائلہ کے شوہر کا علم ہونے کے باوجود مذکور مسافت کی وجہ سے مستقل طور پر جماعت کی نماز چھوڑنا شرعاً جائز نہیں ، اس سے اجتناب لازم ہے ، جبکہ سائلہ کو بھی چاہئے کہ اپنے شوہر کو حکمت و بصیرت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرتی رہے ، تاکہ شوہر کے ساتھ تلخ کلامی اور گھریلوں ناچاقی جیسے ناموافق حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
کما فی سنن ابی داؤد : عن ابن ام مکتوم ضی اللہ عنہ : انہ سال النبی ﷺ فقال : یا رسول اللہ انی رجل ضریر البصر شاسع الدار ولی قائد لا یلاومنی فھل لی رخصۃ ان اصلی فی بیتی ؟ قال ( ھل تسمع النداء ؟ ) قال : نعم قال : ( لا اجد لک رخصۃ ) ( باب التشدید فی ترک الجماعۃ ج 1 ص 99 ط انعامیہ ) ۔
و فیھا ایضاً : عن ابن عباس قال : قال رسول اللہ ﷺ ( من سمع المنادی فلم یمنعہ من اتباعہ عذر قالوا : وما العذر ؟ قال : ( خوف او مرض ) لم تقبل منہ الصلاۃ التی صلی ) ( باب التشدید فی ترک الجماعۃ ج1 ص 259 ط بشری ) ۔
وفی رد المحتار : تحت ( قولہ قال الزاھدی الخ ) توفیق بین القول بالسنیۃ و القول بالوجوب الآتی و بیان ان المراد بھما واحد اخذا من استدلالھم باالاخبار الواردۃ بالوعید الشدید بترک الجماعۃ وفی النھر عن المفید : الجماعۃ واجبۃ ، و سنۃ لوجوبھا بالسنۃ اھ ( الی قولہ ) وقال فی شرح المنیۃ : والاحکام تدل علی الوجوب ، من ان تارکھا بلا عذر یعزر و ترد شھادتہ و یاثم الجیران بالسکوت عنہ ، وقد یوفق بان ذلک مقید بالمداومۃ علی الترک کما ھو ظاھر قولہ ﷺ ( لایشھدون الصلاۃ ) وفی الحدیث الآخر ( یصلون فی بیوتھم ) الخ
وفیہ ایضاً ( فتسن او تجب ) ثمرتہ تظہر فی الاثم بترکھا مرۃ ( علی الرجال العقلاء البالغین الاحرار القادرین علی الصلاۃ بالجماعۃ من غیر حرج الخ
وفی رد المحتار : تحت ( قولہ من غیر حرج ) قید لکونھا سنۃ مؤکدۃ او واجبۃ فبالحرج یرتفع الاثم و یرخص فی ترکھا ولکنہ یفوتہ الافضل الخ ) ( باب الامامۃ ج 1 ص 554 ) ۔
وفی الدر المختار : ( من عجز عن استعمال الماء لبعدہ ) ولو مقیماً فی المصر ( میلاً ) اربعۃ آلاف ذراع الخ ( باب التیمم ج 1 ص 232 ط سعید ) ۔
وفی رد المحتار : تحت ( قولہ ( ولو مقیما ) لان الشرط ھو العدم فاینما تحقق جاز التیمم ، نص علیہ فی الاسرار بحر ( قولہ میلا ) ھو المختار فی المقدار ھدایۃ ، وھو اقرب الاقوال بدائع الؒخ ( ج 1 ص 233 ) ۔