بیوٹی پالر کے ذریعے مال کمانا جائز ہے یا نا جائز ہے ؟
واضح ہو کہ بیوٹی پارلر کا کاروبار کرنا شرعاً جائزہے ، بشرطیکہ پارلرکا کام کرنے والی عورت فقط عورتوں کے میک اپ کا کام کرے ، اس کام کے دوران وہ خواتین کے بال حدِ شرعی سے زائد کاٹنے ،بھنویں بنانے وغیرہ جیسے ممنوع کام نہ کرے ، اور نہ ہی غیر محارم کے ساتھ اختلاط رکھے ، بلکہ حدودِ شرعیہ کے تحت کام کرے ، تو اس کی شرعاً اجازت ہے ، اسی طرح کسی شادی شدہ عورت کے چہرے کے بالوں کی وجہ سے اسکا شوہر اس سے نفرت کرتا ہو اور وہ ان بالوں کو ختم کرنے یا بلیچ کرنے کی اجازت دیدے تو اس صورت میں وہ یہ کام بھی کرسکتی ہے ، مگر وہ اس دوران اتنا مبالغہ نہ کرے کہ ہیجڑوں کے ساتھ مشابہت ہو نے لگے ، کیو نکہ یہ ممنوع ہے ، لہٰذا اگر کوئی خاتون غیر شرعی کاموں سے بچتے ہوئے بیوٹی پارلر کا کام کرے تو اس کا یہ کام جائز ہوگا ، اور اس پر ملنے والی کمائی کو وہ اپنے استعمال میں لاسکتی ہے ۔
کما فی صحیح البخاری : عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ، عن النبی ﷺ قال لعن اللہ الواصلۃ و المستوصلۃ و الواشمۃ و المستوشمۃ ، (ج 4 ص 2654 رقم 5933 باب الوصل فی الشعر ط البشریٰ) ۔
و فیہ ایضاً : عن علقمۃ ، قال لعن عبد اللہ الواشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ ،(ج 4 ص 2655 رقم 5939 باب المتنمصات ط البشریٰ )۔
و فیہ ایضاً : عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال ، لعن رسولﷺ المتشبھین من الرجال بالنساء و المتشبھات من النساء بالرجال ۔ ( ج 4 ص 2640 باب المتشبھین بالنساء و المتشبھات بالرجال )۔
و فی الفتاویٰ الھندیہ : و لو حلقت المرأۃ رأسھا فأِن فعلت لوجع أصابھا لابأس بہ و أِن فعلت ذلک تشبھا بالرجل فھو مکروہ ،کذا فی الکبریٰ الخ ، (ج 5 ص 358 الباب التاسع عشر کتاب الکراھیۃ ط ماجدیہ ) ۔
و فی الفتاویٰ الھندیہ : و لا بأس بأخذ الحاجبین و شعر و وجھہ مالم یتشبہ بالمخنث ، کذا فی الینابیع الخ ، (ج 5 ص358 باب التاسع عشر کتاب الکراھیہ ط ماجدیہ ) ۔
و فی الدر المختار : فأِذا ثبت کراھۃ لبسھا للتختم ثبت کراھۃ بیعھا و صیغھا لما فیہ من الاعانۃ علی ما لا یجوز و کل ما أدیٰ أِلی مالا یجوز لا یجوز ، و تمامہ فی شرح الوھبانیۃ الخ (ج 2 ص360 فصل فی اللبس ط سعید )۔