السلام علیکم
میری شادی 2019 میں ہوئی اور میں سعودی عرب میں کام کر رہا ہوں، میری اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ میرے ساتھ سعودی عرب میں رہنا چاہتی ہے، میں لیبر کیٹیگری میں کام کرتا ہوں اور میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں، کہ بیوی کو سعودی عرب میں رکھوں اور میں ہندوستان میں بھی نہیں رہ سکتا، کیوں میں تھوڑا مشکل میں ہوں ؟ مجھ پر تھوڑا سا قرض ہے،میری بیوی مارچ 2020 سے اپنے والدین کے ساتھ ہے اور میں ماہانہ اخراجات ادا کرتا ہوں ۔ اگست 2021 میں میری والدہ کا انتقال ہوگیا، میں ہندوستان آیا اور فوراً ہی انہوں نے میرے خلاف طلاق کا مقدمہ دائر کیا، وہ ایک وکیل کے پاس گئے اور وکیل نے مجھ سے اور میرے خاندان کے ساتھ بد تمیزی کی ایک ہفتہ بعد میری بیوی نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ وہ حاملہ ہے، میرے خیال میں اسلام کے مطابق حمل کے دوران خلع نہیں ہے، میری بیٹی کی پیدائش 12 مئی 2022 کو ہوئی تھی، اسی دن میری بیوی کا بھائی اور میری بیوی کا بہنوئی پولیس کے پاس گئے اور میرے والد کو اپنے ساتھ لے گئے اور پولیس والوں نے میرے والد کے ساتھ بد تمیزی کی اور مجھے فون پر گالیاں دیں ، وہ مجھ سے پیسے چاہتے ہیں اور اب میری بیوی بھی پیسے مانگ رہی ہے اگر میں کچھ کہوں تو وہ مجھے کہتی ہےکہ وہ میڈیا کے پاس جائے گی ، تو ان حالات کے لئے کیا کرنا چاہیئے ؟ میں اسے اور اپنی بیٹی کو سب کچھ فراہم کر رہا ہوں، اب وہ شکایت کر رہی ہے کہ میں اسے حق نہیں دے رہا اور اس کے والدین اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، جب سے میں نے اس سے شادی کی ہے جنوری 2023 کے مہینے میں میں نے اسے ایک اور کرایہ کے گھر میں رکھا، اسے مجبوراً دوسرےگھر شفٹ کر دیا گیا، وہ اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، کیونکہ وہ ہر بار اس پر علم کرتے ہیں، پھر میں دوسرے گھر کے لئے راضی ہو گیا۔ دو ماہ بعد اس نے فوراً اپنا فون بند کر دیا اور میں نے اس سے (نیز اس کے بھائیوں سے ) رابطہ کرنے کی کوشش کی ،لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ اپریل 2023 میں اپنی بیوی اور بیٹی کو سعودی عرب بلانا چاہتا تھا، میں نے مارچ میں اپنی بیٹی کا پاسپورٹ تیار کر لیا تھا۔ مئی میں اس نے مجھے بتائے بغیر وہ گھر خالی کر دیا۔ اب تک مجھے نہیں معلوم، وہ اپنے اخراجات کے ساتھ ساتھ کرایہ کے پیسے بھی لے رہی ہے، اور یہ شکایت بھی کر رہی ہے کہ پیسے کافی نہیں ہیں، وہ کہہ رہی ہے کہ تم بخیل ہو۔ اس کا خاندان بالکل بھی اچھا نہیں ہے، وہ ہمیشہ کسی بھی وجہ سے لڑناچاہتے ہیں۔ مجھے ان حالات میں کیا کرنا چاہیئے میرے پاس خاندان کا کوئی سہارا نہیں ہے، میرے والد بیمار ہیں۔ وہ ہر بار مجھ سے طلاق مانگتی ہے یا وہ خلع لینا چاہتی ہے لیکن دو دن بعد وہ آرام کرتی ہے ۔ 4 سال سے میں اس قسم کی چیزوں کا سامنا کر رہا ہوں، ہر دو ماہ بعد اس کی والدہ اور اس کا بھائی میرے ساتھ فون پر میری ماں اور میرے پورے خاندان کے بارے میں غلط کہتے ہیں۔ وہ خلع بھی نہیں لے رہی اور میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ سنت کے مطابق کیا کرنا چاہیئے ؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً سائل کی بیوی سائل کو بلا وجہ تنگ کر رہی ہو اور طلاق کا مطالبہ کر رہی ہو تو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں، اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو رہی ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس غلط رویہ سے باز آئے اور طلاق کا مطالبہ کر کے اپنا گھر برباد نہ کر ے۔
تاہم اگر ہر ممکن کوشش اور سمجھانے کے باوجود وہ اپنی ان غلط حرکتوں سے باز نہ آئے اور آپس کی لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئے اس رشتہ کو برقرار رکھنا مشکل ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل اس کو ایک طلاق دیکر اپنے نکاح سے آزاد کر سکتا ہے اور اس صورت میں سائل گناہ گار بھی نہ ہوگا۔
کما فی جامع الترمذی: عن ابی صرمۃ، أن رسول اللہ ﷺ قال: من ضار ضار اللہ بہ، ومن شاق شاق اللہ علیہ اھ (کتاب البر والصلۃ عن رسول اللہ ﷺ باب ماجاء فی الخانیۃ و الغشی ج 2 صـ 841 ط: بشری)
وفی الدر المختار: (إلا لحاجۃ) کریبۃ و کبر (إلی قولہ) معناہ أن الشارع ترک ھذا الأصل فأباحہ، بل یستحب لو مؤذیۃ أو تارکۃ صلاۃ الخ
وفیہ ایضاً: (طلاقۃ) رجعیۃ(فقط فی طھر لا وطء فیہ) وترکھا حتی تمضی عدتھا (أحسن) الخ (کتاب الطلاق ج 3 صـ 231-227 ط:سعید)