السلام علیکم ! میری شادی کو 7 ماہ ہوگئے ہیں ، لیکن ہم دونوں کے دماغ الگ ہیں ، ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پا رہے ، پہلے شروع میں بہت زیادہ مسئلہ تھا ، پھر میں نے اس کو اس کے والدین کے گھر چھوڑ آیا ، پھر ایک ماہ بعد واپس لے آیا ، میری بیوی بالکل سادی لڑکی ہے ، نہ مجھ سے بات کرتی ہے ، بس کام کی بات کرتی ہے اور کوئی مذاق یا دل جوئی کی باتیں نہیں کرتی اور میں نے اس سے ملاقات کیے بغیر شادی کرلی تھی ، اب وہ مجھے پسند نہیں آرہی تو میری رہنمائی فرمائیں کہ میں اسے چھوڑدوں یا دوسری شادی کروں ؟ اب مجھے وہ پسند نہیں ہے تو میں اس کے حقوق شاید صحیح سے ادا نہ کر پاؤں ، دین کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
شادی کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کی طرف قلبی میلان اور تعلق ایک فطری جذبہ ہے جو ایک دوسرے سے مطالبہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے جذبات اور احساسات کے خیال رکھنے سے قدرتی طور پر وجود میں آتا ہے ، جس میں اسباب اور کوشش کی حد تک میاں بیوی ایک دوسرے کے پابند ہیں ، جبکہ طلاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سے ناپسندیدہ فعل ہے ، لہٰذا اگر سائل اپنی بیوی کے اخلاق اور کردار سےمطمئن ہو تو محض اس وجہ سے کہ وہ مزاج کے اعتبار سے انتہائی سادہ ہے اور مذاق اور دل جوئی کی باتیں کرنا نہیں جانتی طلاق دینے کا فیصلہ قطعاً درست نہیں ، بلکہ اسے چاہیئے کہ اپنی بیوی کو اپنے مزاج پر لانے کی کوشش کرتے ہوئے حکمت کے ساتھ اسے سمجھاتا رہے ، اور اسے کچھ وقت دے تاکہ وہ بھی سائل کو سمجھ سکے ، امید ہے کہ وقت کے ساتھ سب بہتر ہوجائے گا ۔
کما فی أحکام القرآن للجصاص : ( و عاشروهن بالمعروف ) أمر للأزواج بعشرة نسائهم بالمعروف و من المعروف أن يوفيها حقها من المهر و ا لنفقة و القسم و ترك أذاها بالكلام الغليظ و الإعراض عنها و الميل إلى غيرها و ترك العبوس و القطوب في وجهها بغير ذنب جرى مجرى ذلك نظير قوله تعالى فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان و قوله تعالى ( فإن كرهتموهن فعسى أن تكرهوا شيئا و يجعل الله فيه خيرا كثيرا ) يدل على أنه مندوب إلى إمساكها مع كراهته لها وقد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يوافق معنى ذلك حدثنا محمد بن بكر ( الی قولہ ) عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق و حدثنا عبد الباقي بن قانع ( الی قولہ ) عن أبي موسى الأشعري قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم تزوجوا و لا تطلقوا فإن الله لا يحب الذواقين و الذوقات فهذا القول من النبي صلى الله عليه وسلم موافق لما دلت عليه الآية من كراهة الطلاق والندب إلى الإمساك بالمعروف مع كراهته لها و أخبر الله تعالى أن الخيرة ربما كانت لنا في الصبر على ما نكره الخ ۔ ( ج ، ۲ ص ، ۱۰۹ ط ۔ سہیل اکیڈمی ) ۔