السلام علیکم ! جناب ! میرا 21 مئی 2023 کو نکاح ہوا تھا اور میں نے حق مہر بھی ادا کر دیا تھا ، اس کے باوجود میری بیوی مجھے قریب نہیں آنے دیتی ، جیسے بوسا وغیرہ کرنے کے لئے کہتاہو ں، تو جواب دیتی ہے کہ رخصتی کے بعد کرنے دوں گی ، براہ مہربانی مجھے اسلام کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ نکاح کے بعد مہر دے کر بیوی کے قریب آنے کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ باضابطہ نکاح ہو جانے کے بعد اگر چہ میاں بیوی کے لئے آپس میں ملنا جلنا بات چیت سمیت وغیرہ کی اگر چہ شرعاً اجازت ہے ، لیکن عرف میں نکاح کے بعد رخصتی سے قبل چونکہ ان امور کو معیوب سمجھا جاتا ہےاور دو خاندانوں میں بہت سارے مفاسد کا ذریعہ بھی بنتا ہے ، لہذا سائل کو چاہیئے کہ ایسے امور سے اجتناب کرتے ہوئے، جلد از جلد رخصتی کا انتظام کرے ، تا کہ ان وجوہات کی بنا پر میاں و بیوی کا رشتہ متاثر نہ ہو ۔
کما فی الدر المختار : ( ھو ) عند الفقھاء ( عقد یفید ملک المتعۃ ) ای حل استمتاع الرجل من امراۃ لم یمنع من نکاحھا مانع شرعی الخ ( کتاب: النکاح ۔ ج: 3 ۔ ص: 3 ) ۔
و فی رد المحتار : تحت ( قولہ حل استمتاع الرجل ) ای المراد انہ عقد ( الی قولہ ) لان من احکام النکاح حل استمتاع کل منھما بالآخر الخ ( کتاب: النکاح ۔ ج: 3 ۔ ص: 4 )۔