میرا سوال یہ ہے کہ مجھے میرے شوہر نے طلاق دے رکھی تھی، مجھے اس بات کا یقین تھا،مگر مجبوری کی وجہ سے میں اس کے ساتھ تھی ، کیونکہ میرے گھر والوں کے سامنے وہ مکر جاتا تھا ۔ اس میں خوف خدا بالکل نہیں ہے، وہ ایک بے دین شخص ہے ۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ جب اسے یقین ہوگیا کہ میرا اس کے پاس رہنا مجبوری ہے،جس کی وجہ سے اس نے کچھ عرصے پہلے جب میں اپنی امی کے گھر آئی ہوئی تھی ،باتوں باتوں میں اس نے میسج پر کہا " hum tu haram life guzar rhay hen" جس پر میں نے اس سے پوچھا "Wo kese" جس کے جواب میں اس نے کہا "After divorced" اسی طرح کچھ اور میسج بھی کئے " tmhen koi problem hy without marriage rehne men" کیا ان سب باتوں کی وجہ سے یہ کہا جا سکتا ہے اور واضح ہورہا ہے کہ اس نے طلاق دی ہوئی ہے ؟ اور اس نے طلاق کے بعد بھی مجھے رکھا ہوا ہے ؟
تنقیح : (1) سائلہ کے شوہر نے کن الفاظ کے ساتھ اور کتنی مرتبہ الفاظ طلاق کہے ہیں ؟
(2) اب اس طلاق کے اظہار کرنے کے بعد سائلہ اب بھی اس کے ساتھ رہ رہی ہے یا والدین کے ہاں ہے ؟
(3) اب شوہر اپنے سابقہ دی ہوئی طلاق کا اقرار کر رہا ہے یا نہیں ؟ ان سوالات کے جوابات کی مکمل تفصیل بیان کرکے سوال دوبارہ ارسال کریں یا کسی قریبی مستند دار الافتاء سے رجوع کرکے حکم شرعی معلوم کریں ۔
جوابِ لتنقیح : سائلہ کے شوہر نے اپنا نام لے کر کہا کہ " میں ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " یہ الفاظ شوہر نے چار بار کہے ، جبکہ اس سے قبل میاں بیوی کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی ، سائلہ اب بھی اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہے ، اور شوہر کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے گا تو میں جھوٹی قسم کھالوں گا ، جبکہ یہ سائلہ کا حلفیہ بیان ہے کہ اس کے شوہر نے اس کو طلاق دی ہوئی ہے اور سائلہ کے سامنے وہ اقرار بھی کرتا ہے ، لیکن دوسروں کے سامنے مکر جاتا ہے ۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " جیسے واضح اور صریح الفاظ کے ساتھ چار طلاقیں دی ہوں ، اور سائلہ اس پر حلف اور قسم بھی کھانے کو تیار ہو، جبکہ شوہر سائلہ کے سامنے طلاق دینے کا اقرار تو کرتا ہو، مگر دیگر لوگوں کے سامنے طلاق دینے کا انکار کرتا ہو، تو ایسی صورت میں میاں و بیوی کے درمیان ذکر کردہ مکالمہ شرعی شہادت یا اس کی طرف سے شرعاً اقرار ہونے کے لئے تو اگر چہ کافی نہیں، مگر اس سے سائلہ کی بات کی تائید ہوتی ہے ، لہذا سائلہ کو چاہیئے کہ وہ اپنے آپ کو مطلقۂ ثلاثہ سمجھتے ہوئے ، مرد کو اپنے اوپر ہرگز قدرت نہ دے ، بلکہ طلاق یا خلع بالمال کے ذریعہ شوہر سے فوراً علیحدگی اختیار کرے ، نیز شوہر پر بھی لازم ہے کہ وہ طلاق دینے کے باوجود بیوی کو اپنے ساتھ حرام زندگی گزار نے پر مجبور نہ کرے ، بلکہ اسے اپنے بند ھن سے آزاد کردے ، تاکہ مستقبل میں میاں بیوی حرام زندگی گزارنے سے محفوظ رہ سکیں ۔
كما في البحر الرائق : و المرأة كالقاضي إذا سمعت أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون، و ذكر في البزازية : و ذكر الأوزجندي أنها ترفع إلى القاضي، فإن لم يكن لها بينة تحلفه فإذا حلف فالإثم عليه الخ ( كتاب الطلاق، ج ۳، ص ۲۵۷، ط : ما جدية )-
و في رد المحتار : تحت ( قوله كالقضاء باليمين الكاذبة) محترز قول المتن : بشهادة قالوا لو ادعت أن زوجها أبانها بثلاث فأنكر فحلف و المرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام معه و لا أن تأخذ من ميراثہ شيئا (إلى قوله) و في الخلاصة و لا يحل وطؤها إجماعا بحر الخ ( كتاب الحوالة، ج 5، ص 407، ط : سعيد)-