السلام و علیکم !شریعت محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مطابق عورت کا اپنے بھائیوں سے جائیداد میں حصہ لینا جائز ہے، تو کیا جو عورت حصہ لینے کی طرف نہ جائے ، او ر الٹا بھائیوں کی طرف داری کرے ، تو کیا اس کا شوہر اسے زبردستی حصہ لینے پر مجبور کر سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ اس کے بھائی بدمعاشی اور شیطانی کی وجہ سے حصہ نہ دے رہے ہوں ، نیز یہ کہ اگر عورت اپنے شوہر کے کہنے کے باوجود حصہ نہیں لیتی تو کیا شوہر کی نافرمانی کی مرتکب ہوگی یا نہیں؟ جبکہ شوہر کہہ رہا ہے کہ حصہ لو ہر قیمت پر ، معاف نہیں کرنا ۔
واضح ہو کہ جب تک میراث کا مال تمام ورثاء کے مابین حسبِ حصصِ شرعی تقسیم کر کے ہر وارث کو اس کا حصہ شرعیہ حوالہ نہ کیا جائے اس وقت تک کسی وارث کیلئے اپنا حقِ وراثت دوسرے کو معاف کرنے یا کسی دوسرے کو گفٹ کرنے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ، بلکہ ہبہ اور گفٹ یا معاف کرنے کے باوجود اس کا حصہ شرعیہ ترکہ میں بدستور برقرار رہتا ہے ، لہٰذا سوال میں مذکور عورت کا تقسیمِ ترکہ سے قبل اپنا حصہ بھائیوں کو دینے سے اس کا حصہ ساقط نہ ہوگا، بلکہ وہ شرعاً و قانوناً اپنا حصہ لینے کا حق رکھتی ہے ، اور اس سلسلے میں بھائیوں کا کسی قسم کی رکاوٹ بننا بھی شرعاً ناجائز اور قانوناً غلط ہے، تاہم شوہر کا اپنی بیوی کو والدین کی میراث سے حصہ شرعیہ لینے پر مجبور کرنا اور حصہ نہ لینے کی صورت میں اسے اپنا نافرمان قرار دینا قطعاً غلط اور احکام ِ شرعیہ سے نا واقفیت پر مبنی ہے ۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن سعید بن زید رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ، من اخذ شبراً من الارض ظلماً فانہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع ارضین اھ ( باب الغصب ، رقم الحدیث : 2937 ج 2 صـــ 424 ط : بشری ) ۔
و فی شرح الاشباہ و النظائر: ما یقبل الاسقاط من الحقوق وما لا یقبلہ و بیان ان الساقط لا یعود لو قال الوارث: ترکت حقی لم یبطلہ حقہ اذ الملک لا یبطل بالترک، و الحق یبطل بہ حتی لو ان احداً من الغانمین قال قبل القسمۃ: ترکت حقی بطل حقہ الخ ( الفن الثالث ج 3 صـــ 53 ط : ادارۃ القرآن ) ۔