کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی بہت نافرمان ہے، وہ میری بات نہیں مانتی، گالم گلوچ کرتی ہے، مجھ پر ہاتھ اُٹھاتی ہے، گھر اور بچوں کو بھی نہیں سنبھالتی، ایسی صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے؟ نیز میں نے اپنا گھر اپنی بیوی اور تین بچوں کے نام کیا ہوا ہے، کیامیں وہ گھر واپس لے سکتا ہوں یا نہیں؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کی بیوی سائل کی بات نہ مانتی ہو، گالم گلوچ کرتی ہو، شوہر پر ہاتھ اُٹھاتی ہو اور گھر اور بچوں کی دیکھ بھال نہ کرتی ہوتو اُس کا مذکور طرزِ عمل شرعاً جائز نہیں، جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو رہی ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرزِ عمل پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرکے آئندہ کیلئے ان امور سے مکمل اجتناب کرے، اور اپنا گھر بسانے کی فکر کرے، جبکہ سائل کو بھی چاہیئے کہ بیوی کو از خود یا خاندان کے بااثر افراد کے ذریعے احسن طریقے سے سمجھانے کی کوشش کرے، تاہم اگر سائل کی بیوی باوجود سمجھانے کے اپنے مذکور طرزِ عمل سے باز نہ آئے تو ایسی صورت میں سائل کو طلاق یا خلع کے ذریعے بیوی کو اپنی زوجیت سے علیحدہ کرنے کا شرعاً اختیار حاصل ہے، اور اس صورت میں سائل گناہ گار بھی نہ ہوگا۔
جبکہ مذکور گھراگر سائل نے اپنی بیوی کے صرف نام کیا ہو، باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ حوالہ نہ کیا ہو ،تو ایسی صورت میں فقط بیوی کے نام کر دینے سے یہ ہبہ (گفٹ) تام نہیں ہوا ، اور سائل کی بیوی مذکور گھر کی مالک نہیں بنی، بلکہ مذکور مکان سائل کی ہی ملکیت ہے، لہذا سائل وہ گھر واپس لے سکتا ہے۔
کما فی رد المحتار: إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع۔اھ (441/3)
وفیه ایضاً: (قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة) ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى والفجور يعم الزنا وغيره وقد قالﷺ لمن زوجته لا ترد يد لامس وقد قال إني أحبها استمتع بها۔اھ (427/6)
وفیه ایضاً: لو قال جعلته باسمك، لا يكون هبة۔اھ (689/5)