میرا شوہر تین سال سے میری بہن ( یعنی اپنی سالی ) کے ساتھ زنا کر رہا تھا ، مجھے اب پتہ چلا کہ میرا شوہر میری بہن سے ناجائز تعلق میں تھا ، تو میں کیا بطور اس کی بیوی اپنے شوہر پر حلال ہوں یا نہیں؟ اور مجھے اسلامی نقطۂ نظر سے کیا کرنا چاہیئے؟
سائلہ کے شوہر کا اپنی سالی کے ساتھ ناجائز تعلقات اور زنا جیسے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنا شرعاً ناجائز اور حرام فعل ہے ، اگر اسلامی قانون نافذالعمل ہوتا تو اس جرم کے ثبوت کے بعد سائلہ کے شوہر اور اس کی بہن پر شرعی حد بھی جاری ہوتی ، لہٰذا سائلہ کے شوہر کو اپنے اس فعلِ حرام کے ارتکاب پر اللہ کے حضور بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے مکمل اجتناب لازم ہے،تاہم اس کی وجہ سے سائلہ کا اپنے شوہر کے ساتھ نکاح متاثر نہیں ہوا ، بلکہ دونوں حسبِ سابق ازدواجی زندگی بسر کرسکتے ہیں ، البتہ سائلہ کو چاہیئے کہ اپنے شوہر کے ساتھ ساتھ اپنی بہن کو بھی سمجھائے کہ وہ اس کے شوہر سے دور رہے ، تاکہ آئندہ کے لئے اس فعل کے ارتکاب سے بچا جاسکے ۔
قال اللہ تعالی : الزانية و الزاني فاجلدوا كل واحد منهما مائة جلدة و لا تأخذكم بهما رأفة في دين الله إن كنتم تؤمنون بالله و اليوم الآخر و ليشهد عذابهما طائفة من المؤمنين اھ ( النور : 2 )۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : و اختلف أهل العلم في حد المحصن و غير المحصن في الزنا فقال أبو حنيفة و أبو يوسف و زفر و محمد يرجم المحصن و لا يجلد و يجلد غير المحصن و ليس نفيه بحد و إنما هو موكول إلى رأي الإمام إن رأى نفيه للدعارة فعل كما يجوز حبسه حتى يحدث توبة اھ ( ج 3،صـــ 422 ) ۔
و فی الدر المختار مع الشامیۃ : و فی الخلاصۃ : وطئ أخت امرأتہ لاتحرم علیہ امرأتہ و قولہ : لاتحرم أی لاتثبت حرمۃ المصاھرۃ إلخ ( ج 3 ، صـــــ 34 ) ۔