السلام علیکم! مجھے ایک مسئلہ پوچھنا ہے ،میرے شوہر کے ایک عورت سے ناجائز تعلقات ہیں،وہ یہ بات قبول کر چکے ہیں کہ میرے تعلقات ہیں ،میں نے اس لڑکی کی زندگی خراب کر دی ہے، لیکن یہ سب چھوڑنے کو تیار نہیں کہ میں اسے نہیں چھوڑ سکتا، میں اپنے میکے میں ہوں، مجھے گھر لے جانے پر بضد ہیں کہ جو جیسا ہے، ویسا رہے گا، تم آ جاؤ گھر، ورنہ طلاق کی دھمکی دے رہے ہیں، مجھے بتائیں میں کیاکروں ؟اس عورت سے جس سے تعلقات ہیں، بقول میرے شوہر کے دو بار اسقاط حمل کرایا، میں کیا کروں؟ کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو بایں طور کہ واقعۃً سائلہ کے شوہر کے اجنبی عورت سے ناجائز وحرام تعلقات ہوں تو اس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گا ر ہوا ہے،اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ واستغفار کرے اور جلد سے جلد اس نامحرم سے تعلقات منقطع کردے یا پھر باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں اس سے نکاح کرکے پاکدامنی کی زندگی گزاریں،نکاح کے بغیر اس کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا تنہائی میں ملنا وغیرہ تمام امور شرعاً ناجائز وحرام اور گنا کبیرہ ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے،جبکہ سائلہ کو چاہیے کہ شوہر کے بلانے پر اس کی نافرمانی نہ کرے،بلکہ اپنے شوہر کے گھر لوٹ جائے،اور پیار محبت اور حکمت وبصیرت کے ساتھ اس کو سمجھانے کی کوشش کرے اگر از خود سمجھانا مشکل ہو تو خاندان کے معزز افراد کے ذریعہ سے سمجھانے کی کوشش کی جائے اور ساتھ ساتھ اس کی ہدایت کیلئے دعائیں بھی کی جائیں ،ان شاءاللہ اس سے فائدہ ہوگا۔تاہم اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود شوہر اپنی ان حرکات سے باز نہ آئے تو ایسی صورت میں سائلہ کیلئے طلاق کا مطالبہ کرنا یا جدائی اختیار کرنا لازم نہیں،مگر شوہر کی اطاعت گناہ کے کاموں میں کرنا بہر صورت ناجائز ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔