السلام علیکم مفتی صاحب !
پانچ سال پہلے میں نے دوسری شادی کی،پہلی بیوی سے 2 بیٹے عمر 27 اور 20 ہے، اور 2 لڑکیاں عمر 21 اور 17 ہیں، دونوں بیویاں ایک ہی گھر میں اوپر نیچے رہتی ہیں، جب سے میری دوسری شادی ہوئی ہے، میری پہلی بیوی نے جسمانی تعلق ختم کر دیا، جبکہ ماہانہ خرچہ مکمل دیتا ہوں، بات چیت، رائے مشورہ زندگی یا بچوں کے معاملات بھی ترک کر دیے ، بچوں کو میرے خلاف ورغلانا شروع کر دیا ، بیٹے کا رشتہ کرنے خود اکیلی چلی گئی، اور فیصلہ کر لیا، بیٹی کی شادی کا کہتا ہوں تو بیٹی کو ترغیب نہیں دیتی، سال پہلے میرے ماں باپ کا انتقال ہو چکا ہے، انکی خدمت کا طعنہ آج بھی دیتی ہے، دنیا کو سناتی پھرتی ہے، میں پھوپھی کے گھر نوکری کرتا تھا، پھر اسی جگہ میرا بیٹا جاب کرنے لگا ، میں پاکستان آگیا ،مگر میری پھوپھی مجھے ماہانہ خرچہ بھیجتی ہےتنخواہ سمجھ کر اپنی خوشی سے، میں اس رقم سے پہلی بیوی بچوں کا خرچہ بیوی کے ہاتھ میں دیتا ہوں، تو دنیا والوں کو کہتی ہےکہ آدمی بیروزگار ہے، کام نہیں کرتا،اور جو پیسہ آتا ہے،وہ شوہر کا نہیں اسکی پھوپھی کا ہے، مستقل 29 سال سے نا شکری کرتے آرہی ہے،کوئی شکر نہیں، بیٹیوں کی پرورش میں سسرال والوں میں نبھانے کی ایسی عورت کیا تربیت کرے گی؟ جو خود 17 سال پہلے سسرال والے مر چکے ہیں وہ آج بھی بچوں کو دنیا والوں کو کہتی پھر رہی ہے کہ شوہر سے کیا صلہ ملا، میں نے دودو سالن بناکر اس کے ماں باپ کو کھلائے ، دودو کھانے مجھ سے بنواتے تھے، یعنی جو لوگ مر گئے ہیں ان کو بھی نہیں بخش رہی ہے، بغیر بولے گھر سے میکے یا کہیں بھی جاتی ہے، مجھ سے نہیں پوچھتی، بچے باغی ہو رہے ہیں، ماں کو حق پر سمجھتے ہیں، میں اپنے بچوں کو بیوی کو کوئی تکلیف نہیں دیتا، مگر 5 سال سے بیوی نے تعلق ختم کر رکھا ہے، مجھ سے پردہ کرتی ہے ، بیماری میں بھی ہسپتال نہیں آتی، میں نے معافی مانگنا چاہی مگر وہ معاف کرنے کو تیار نہیں، اب میں کیا کروں ؟ایسی عورت کا اسلام میں کیا حکم ہے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں؟
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائل کی پہلی بیوی کا بغیر کسی عذر کے شوہر کی نافرمانی اور بے احترامی کرنا اور عرصئہ پانچ سال سے قطع تعلق کرکے مذکور طرزِ عمل اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں، جسکی وجہ سے وہ گنہگار ہو رہی ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرزِ عمل پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرکے آئندہ کے لئے اس سے مکمل اجتناب کرے، جبکہ سائل کے ذمہ بھی نفقہ وغیرہ ضروری امور میں دونوں بیویوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لینا ضروری ہے،چنانچہ اس میں کمی بیشی اور کوتاہی سے کام لینا سائل کے لئے جائز نہیں، لہذا سائل کو بھی دو بیویوں کے درمیان برابری اور عدل و انصاف سے کام لینے کا اہتمام کرنا چاہئیے ۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح» . متفق (باب عشرۃ النساء ، ج2، ص25، رقم:3246، ط:بشری)۔
وفیہ ایضاً: و عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يفرك مؤمن مؤمنة إن كره منها خلقا رضي منها آخر» . رواه مسلم (باب عشرۃ النساء ، ج2، ص24، رقم:3240، ط:بشری)۔