میری شادی کو تقریباً چار سال ہونے والے ہیں ،جس میں سے ہم میاں بیوی تقریباً ایک سال مختلف اوقات میں آپس میں بولے تک نہیں ، رہتے بھی اکٹھے ہیں لیکن آپس میں ایک لفظ بھی نہیں بولتے، میرے بار بار سمجھانے کے بعد کہ ناراضگی فورا ختم کر دینی چاہیے پھر بھی میری زوجہ اس پر عمل نہیں کرتی ، ہمارے دو بچے بھی ہیں ایک بیٹا ایک بیٹی ،مفتی صاحب اب تقریباً چار ماہ سے ہم نہیں بولے میں ناراض ہوں میرے ناراض ہونے سے میری زوجہ کو تھوڑا سا بھی فرق نہیں پڑتا ، اب میں نے حالات سے تنگ آکر سوچا ہے کہ ایسے ہی زندگی بسر کرنی ہے جیسے چل رہی ہے ، یعنی بغیر بولے بغیر کسی میاں بیوی والے تعلق کے ،برائے مہربانی میری رہنمائی کیجئے کہ کیا میں ایسے رہ سکتا ہو بغیر بولے بغیر تعلق کے؟
سوال میں ذکردہ بیان اگر واقعۃًدرست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائل کی بیوی کا اپنےشوہر سے بلاکسی وجہ کے ناراض ہو کر بات چیت ختم کرنا اور شوہر کےسمجھانے کے باوجود اپنے رویے سے باز نہ آنا قطعاًدرست طرزِ عمل نہیں ، بلکہ شوہر کے ساتھ قطعِ تعلقی اور اس کی حق تلفی پر مبنی عمل ہے ،جس پر احادیثَِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،لہذا سائل کی بیوی پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرزِ عمل سےباز آکر اپنے گھر کو آباد کر نے کی کوشش کرے ، جبکہ سائل کے لئے چھوٹی موٹی معمولی باتوں کو بنیاد بناکر بیوی کیساتھ قطعِ کلامی اختیار کرنا مناسب نہیں ،بلکہ سائل کو بھی چایئے کہ معمولی باتوں کو نظر انداز کرکے خوشی کیساتھ زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے۔
کما فی المشکوٰۃ: عَنِ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَرْأَةُ إِذَا صَلَّتْ خَمْسَهَا وَصَامَتْ شَهْرَهَا وَأَحْصَنَتْ فَرْجَهَا وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا فَلْتَدْخُلْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَتْ»(کتاب النکاح باب عشرۃالنساء ص281 ط قدیمی کتب خانہ)۔
وفی بدائع الصنائع: ومنها، وجوب طاعة الزوج على الزوجة إذا دعاها إلى الفراش لقوله تعالى {ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف} [البقرة: 228] قيل: لها المهر والنفقة، وعليها أن تطيعه في نفسها، وتحفظ غيبته؛ ولأن الله عز وجل أمر بتأديبهن بالهجر والضرب عند عدم طاعتهن، ونهى عن طاعتهن بقوله عز وجل {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] ، فدل أن التأديب كان لترك الطاعة، فيدل على لزوم طاعتهن الأزواج(فصل ومنہاالمعاشرۃبالمعروف الخ ج2ص334ط:سعید)۔