السلام علیکم!
میرے شوہر میرا ازدواجی حق ادا نہیں کرتے، نہ جذباتی لحاظ سے، مجھے میرے خرچ کے پیسے نہیں دیتے، جو کماتے ہیں، وہ اپنی سابقہ مرحومہ یوی کے بچوں پر خرچ کرتے ہیں یا انکو دیتے ہیں، جبکہ وہ سب شادی شدہ اور بالغ ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اورحقیقت پر مبنی ہو اس میں کسی بھی قسم کی دروغ گوئی اور جھوٹ کا سہارا نہ لیا گیا ہو تو سائلہ کے شوہر کا مذکور طرزِ عمل درست نہیں جس سے اسے احتراز لازم ہے، سائلہ کے شوہر کو چاہیئے کہ اپنی بیوی کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کرے اور بیوی کو ذاتی خرچ کے لئے بقدرِ ضرورت پیسے دیا کرے، تاکہ بیوی کے دل میں اپنے شوہر کے لئے محبت اور احترام باقی رہے۔
کما بدائع الصنائع: وللزوج أن يطالبها بالوطء متى شاء إلا عند اعتراض أسباب مانعة من الوطء كالحيض والنفاس والظهار والإحرام وغير ذلك، وللزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج الخ (ج2،ص3319)۔
وفی الہندیہ: تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان سواء كانت حرة أو مكاتبة كذا في الجوهرة النيرة اھ (ج1، ص544، ط: ماجدیہ)۔