السلام علیکم ! اس مسلئے پر رہنمائ اور فتویٰ چاہیئے کہ کیا عورت کی کمائی پر مرد کا کوئی حق نہیں ؟یہاں آ سٹریلیا میں میاں بیوی دونوں کا کام کرنا معمول ہے ، اس کے بغیر معقول زندگی بسر کرنا مشکل ہے ، لیکن کیا صرف میاں ہی کی ذمےداری ہو گی اخراجات برداشت کرنا اور بیوی پر کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی اور بیوی اگر مرضی سمجھے تو اخراجات میں حصہ ڈالے اور اگر مرضی نہیں تو میاں بیوی کو کچھ نہیں کہہ سکتا؟ دوسرا پہلو کہ کیا میاں بیوی کو کہہ سکتا ہے کہ آ ج کے بعد ہم صرف ایک میری تنخواہ پر گزارہ کریں گے اور تین کے بجائے دو وقت کی روٹی خود بھی کھائیں گے اور بچوں کو بھی کھلائیں گے ، لیکن بیوی میاں کی اجازت کے بغیر گھر کے باہر نہ جائے حتی کہ نوکری بھی نہ کرے ؟ سوال یہ ہے کہ جب میاں بیوی اپنے اور بچوں کے اچھے مستقبل کےلئے اور غریبی سے بچنے کے لئے دونوں نوکری کرتے ہیں تو کیا بیوی کہہ سکتی کہ اس کی تنخواہ پر میاں کا کوئی حق نہیں ہے؟ شکریہ
واضح ہو کہ شریعت مطہر نے بیوی بچوں کے نان ونفقے کی ذمہ داری مرد پر عائد کی ہے ، عورت کو عام حالت میں ان ذمہ داریوں سے آذاد کیا ہے ، البتہ عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنے کو ممنوع قرار دیا ہے، لہذا بغیر کسی شرعی عذر کے عورت کے لئے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں ، البتہ اگر شوہر اپنی بیوی کو ملازمت کی اجازت دیدے اور وہ شرعی احکام کی مکمل رعایت رکھتے ہوئے کمائی کرلے یا گھر میں بیٹھے بیٹھے کسی ہنر اور سکل وغیرہ کے ذریعے مال کمائے ، تو پوری کی پوری کمائی کی مالک وہ عورت ہی ہوگی ، وہ اس کو خرچ کرنے میں شرعاً مکمل آزاد ہوگی ، چاہے تو اپنی کمائی والدین کو یا شوہر کو دیدے ، چاہے بچوں پر خرچ کرے ، چاہے خود رکھ لے ، شوہر کا اس کی کمائی میں شرعاً کوئی حق نہ ہوگا ، البتہ اگر عورت اپنی مرضی سے شوہر اور بچوں پر خرچ کرے تو وہ دوگنے اجر و ثواب کی مستحق ہوگی ، ایک قرابت داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا ، لہذا اگر شوہر تنگدست ہو تو بیوی کو بھی چاہیئے کہ وہ گھریلو خرچ و اخراجات میں شوہر کی معاونت کرے ، لیکن ایسا کرنا شرعاً اس پر لازم اور ضروری نہیں ۔
كما في صحيح البخاري : عن زينب امرأة عبد الله قالت : « كنت في المسجد، فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال : تصدقن ولو من حليكن . وكانت زينب تنفق على عبد الله وأيتام في حجرها، قال : فقالت لعبد الله : سل رسول الله صلى الله عليه وسلم : أيجزي عني أن أنفق عليك وعلى أيتامي في حجري من الصدقة؟ فقال : سلي أنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فانطلقت إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فوجدت امرأة من الأنصار على الباب، حاجتها مثل حاجتي، فمر علينا بلال، فقلنا : سل النبي صلى الله عليه وسلم : أيجزي عني أن أنفق على زوجي وأيتام لي في حجري، وقلنا : لا تخبر بنا، فدخل فسأله، فقال : من هما. قال : زينب، قال : أي الزيانب. قال : امرأة عبد الله، قال : نعم، لها أجران؛ أجر القرابة، وأجر الصدقة » . ( باب الزكاة على الزوج والأيتام في الحجر ، ج 2 ، ص 121 ، ط : السمطانية)-
و في رد المحتار تحت (قوله : وما حصله أحدهما) ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج وتكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها، وقيل بينهما نصفان ( فصل في الشركة الفاسدة ، ج 4 ، ص 325 ، ط : دار الفكر، بيروت)-
و في الدر المختار : النفقة هي لغة : ما ينفقه الإنسان على عياله وشرعا : (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي : الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة : زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته ( باب النفقة ، ج 3 ، ص 571-572 ، ط : دار الفكر، بيروت)-
و في رد المحتار تحت ( قوله وكل محبوس إلخ) هذه كبرى قياس من الشكل الأول طويت صغراه للعلم بها من التعليل السابق، والتقدير: الزوجة محبوسة لمنفعة الزوج إلخ، وينتج لزوم نفقتها عليه فافهم ( باب النفقة ، ج 3 ، ص 572 ، ط : دار الفكر، بيروت)-