کسی بھی مسجد یا عیدگاہ میں امراء کے لئے اگلی صفوں میں خصوصی جگہ مختص کی جا سکتی ہے؟ اور اگر اس مختص جگہ پر امراء کے مسجد یا نمازِعید پر آنے سے قبل کوئی عام فرد اس مختص کی گئی جگہ پر نماز کی ادائیگی کے لئے بیٹھ جائے تو کیا اسے منع کیا جا سکتا ہے؟ اور یہ سب کام مسجد یا عید گاہ کمیٹی اور امامِ مسجد یا امامِ عیدگاہ کی جانب سے کیا گیا ہو؟ آیا ایسی مسجد یا عیدگاہ کہ جس میں نمازیوں یا امیر غریب کے درمیان تفرقات ہوں،وہاں نمازپڑھنا کیسا ہے؟ اور وہاں نماز ہو جائیگی؟ جبکہ قرب وجوار میں دیگر مساجد اور عیدگاہیں بھی موجود ہیں، اور اگرعیدگاہ کی جگہ ان امراء کی ملکیت ہو توکیا وہ ایسا کر سکتے ہیں ؟
واضح ہو کہ سیکورٹی خدشات کے پیشِ نظر اگر سیاسی سماجی اور مذہبی رہنما کے حیثیت کی شخصیات کےلئے اولین صفوں میں کسی جگہ کی تخصیص کر دی جائے، تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ۔البتہ کسی شخص کا زمین وقف کرنے یا خاندانی جاہ وجلال، مالداری یا علمی کمال وغیرہ کی بناء پر مسجد و عیدگاہ میں اپنے لئے عبادت کے واسطےجگہ مخصوص کرنا درست نہیں، بلکہ عُجب اور تکبر کی بناء پر یہ عمل اللہ تبارک وتعالیٰ سے دوری کا باعث بن سکتا ہے۔اس لئے امامِ مسجد سمیت کمیٹی والوں اور جملہ نمازیوں کو اس تفریق سے احتراز لازم ہے۔تاہم اگر کسی مسجد میں ایسی تفریق عملاً پائی جاتی ہو اور کوئی نمازی اس میں نماز پڑھ لیتا ہےتو اس کی نماز شرعاً درست ادا ہوگی۔
کما فی الدر المختار: و یکرہ الإعطاء مطلقاً (إلی قولہ) و تخصیص مکان لنفسہ الخ
و فی الشامیۃ تحت: (قولہ و تخصیص مکان لنفسہ) لأنہ یخلّ با لخشوع کذا فی القنیۃ:أی لأنہ إذا إعتادہ ثم صلّی فی غیرہ یبقیٰ بالہ مشغولاً بالأول بخلاف ما إذا لم یألف مکاناً معیناً (قولہ و لیس لہ الخ) قال فی القنیۃ: لہ فی المسجد موضع معین یواظب علیہ وقد شغلہ غیرہ: قال الأوزاعی لہ أن یزعجہ، و لیس لہ ذالک عندنا ای لأن المسجد لیس ملکاً لأحد الخ(باب ما یفسد الصلاۃ،ج1، ص622، ط: سعید)۔
و فی الھندیہ: إذا جعل ارضاً لہ مسجداً و شرط من ذالک شیئاً لا یصح بالإجماع کذا فی المحیط الخ(باب فی المسجد و ما یتعلق بہ،ج2، ص457، ط: ماجدیہ)۔
و فی البحر الرائق: لا یجوز لأحد مطلقاً أن یمنع مؤمناً من عبادۃ یأتی بھا فی المسجد لأن المسجد ما بنی إلا لھا من صلاۃ و إعتکاف و ذکر شرعی و تعلیم علم و تعلّمہ و قراءۃ القران و لا یتعین مکان مخصوص لأحد حتی لو کان للمدرس موضع من المسجد یدرس فیہ فسبقہ غیرہ إلیہ لیس لہ إزعاجہ و إقامتہ منہ الخ(ج2، ص34، ب: ماجدیہ)