میرے محلے میں ایک مسجد ہے۔ اس مسجد سے دس سے بارہ گھر دور ایک نجی بلڈنگ میں ایک لاؤد اسپیکر لگا ہوا ہے۔ اس لاؤد اسپیکر کے ذریعےمسجد میں ہونے والے پروگرام حتٰی کہ نمازبھی نشر کی جاتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو کافی پریشانی ہوتی ہے۔ اب اس مسٔلہ کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
مائك كے ذریعے نشر کيے جانے والے امور جیسے قران کی تلاوت، دینی تقاریر وغیره نشر کرنے کا مقصد اگرچہ لوگوں کو دینی فائدہ پہنچانا ہوتا ہے لیکن نیکی کے کام کرتے وقت یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ یہ عمل دوسروں کے لیے ايذاء رسانی کا باعث تو نہیں بن رہا؟ لہذا مذکور مسجد انتظامیہ کا مستقل طور پر قران مجید کی تلاوت اور دینی تقاریر کے لیے لاؤڈ اسپیکر کو استعمال کر کے لوگوں کی تکلیف اور ایذاء رسانی کا باعث بننا قطعا درست طرز عمل نہیں، بلکہ ان پر لازم ہے کہ اس طرح لگائے گئے لاؤڈ اسپیکرز کو فقط اذان کے لیے استعمال کرے، اس کے علاوہ نماز اور دیگر پروگراموں کے لیے باہر كے لاؤڈ اسپیکر استعمال نہ کرے، تاکہ ان کی اس عمل کی وجہ سے لوگ تکلیف سے محفوظ ره سكيں.
كما في رد المحتار: وقال: إن هناك أحاديث اقتضت طلب الجهر، وأحاديث طلب الإسرار والجمع بينهما بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال، فالإسرار أفضل حيث خيف الرياء أو تأذي المصلين أو النيام والجهر أفضل حيث خلا مما ذكر، لأنه أكثر عملا ولتعدي فائدته إلى السامعين، ويوقظ قلب الذاكر فيجمع همه إلى الفكر، ويصرف سمعه إليه، ويطرد النوم ويزيد النشاط اهـ ملخصا. (كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 698، ط: ايج ايم سعيد)
وفي المبسوط للسرخسي: (قال)، ويكره له أن يرفع صوته بقراءة القرآن فيه؛ لأن الناس يشتغلون فيه بالذكر والثناء فقل ما يستمعون لقراءته. وترك الاستماع عند رفع الصوت بالقراءة من الجفاء فلا يرفع صوته بذلك صيانة للناس عن هذا الجفاء. (باب: الطواف قبل طلوع الشمس، ج: 4، ص: 48)
وفي سنن النسائي: عن البراء بن عازب أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الله وملائكته يصلون على الصف المقدم، والمؤذن يغفر له بمد صوته، ويصدقه من سمعه من رطب ويابس، وله مثل أجر من صلى معه». (رفع الصوت بالأذان، ج: 3، ص: 13، الرقم: 646)