السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! ہم ایک مخلوط فیملی سسٹم میں رہتے ہیں، یعنی کہ میری زوجہ کے سابقہ شوہر سے دو بیٹیاں ہیں اور ایک ہماری مشترکہ 7 ماہ کی بیٹی ہے، آپ سے مندرجہ ذیل معاملات میں رہنمائی درکار ہے(1) شوہر یا بچوں میں کس کو زیادہ اہمیت اور محبت ملنی چاہیئے(2) میری زوجہ کے مطابق وہ اپنی جاب اور سابقہ شوہر کے بچوں کی وجہ سے میرے ساتھ میرے گھر میں نہیں رہ سکتی، جسکی وجہ سے میں نے ان کو الگ گھر میں ہفتہ وار چھٹی میں رہنے آتا ہو ، اس سے میرے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور ذہنی اور جسمانی سکون بھی متاثر ہوتا ہے،(3) کیا میں بچوں کی بہتری کے لئے کچھ بھی کرنے سے پہلے اپنی زوجہ کی اجازت لینے کا پا بند ہو، میری زوجہ بات بات پر حدیث بتاتی ہیں کہ ماں پہلے آتی ہے پھرباپ اس لئے آپ کسی بھی بچے کے مطلق میری اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے، کیا یہ صحیح ہے؟(4) کیا زوجہ یہ کہہ سکتی ہیں کہ آپ کے میری زندگی میں آنے کے بعد میری توجہ میرے سابقہ بچوں سے ہٹ گئی ہے اور میں آپ کو فون کال پر یا ویسے ہی زیادہ ٹائم نہیں دے سکتی،(5) کیا یہ غیبت کے زمرے میں آتا ہے آگر زوجہ واٹس ایپ گروپ میں اپنی ایک ہمشیرہ کے ساتھ میرے متعلق ایک غلط بات قہقہے لگائے اور جانتے ہوئے بھی منع نہ کرے۔ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
واضح ہو کہ شریعت مطہرہ ایک کامل اور مکمل ضابطہ حیات پر مشتمل دین ہے، اس میں زندگی کے ہر پہلو کے لئے رہنمائی موجود ہے، محبت، اہمیت اور حقوق شریعتِ مطہرہ نے ہر کسی کو اس کے انداز میں دی ہے کہ جس میں دوسرے کی حق تلفی نہ ہو، اس لئے شادی شدہ زندگی میں اولاد اور میاں بیوی کے حقوق میں کوئی تقابل نہیں، بلکہ سب کے اپنے اپنے حقوق ہیں، اور ہر ایک کو اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، جبکہ عورت کا دوسری شادی کرنے کے بعد اگر یہ دوسرا شوہر عورت کے سابقہ اولاد کا کوئی ذی رحم محرم نہ ہو تو عورت کا ان بچوں کی پرورش کا حق خود بخود ختم ہو جاتا ہے، اور یہ ان کے والد کی ذمہ داری بن جاتی ہے، اس لئے سائل کی بیوی کا یہ کہنا کہ اس نکاح کی وجہ سے وہ اپنے سابقہ شوہر سے اولاد کو توجہ نہیں دے پا رہی قطعا درست نہیں، لیکن اب جب انہوں نے دوسری شادی کر لی ہے تو سائل کی بیوی ہونے کی حیثیت سے اسے سائل کو پورا ٹائم دینا ضروری ہے، ورنہ سائل کی منشا کے مطابق اسے پورا ٹائم نہ دینے کی وجہ سے وہ نان و نفقہ کی حقدار نہ ہوگی ،جہاں تک بچوں کی تربیت اور پرورش کا تعلق ہے تو اس میں میاں بیوی کی ذمہ داریاں متعین ہیں عورت کے ذمہ گھر میں رہ کر بچوں کی اچھی تربیت اور دیکھ بھال کرنا ہے، جبکہ شوہر کے ذمہ ان کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے اخراجات کا انتظام کرنا ہے، اور بچوں کے بہتر مستقبل اور بہترین تربیت کے لئے والدین دونوں باہمی مشاورت سے کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں، اس میں کسی کا دوسرے کے فیصلہ کو نظر انداز کرنا یا اپنے آپ کو دوسرے پر مقدم قرار دینا کسی بھی صورت میں مناسب نہیں، بلکہ میاں بیوی کے باہمی اتفاق اور یکسوئی کے ساتھ زندگی بسر کرنے میں رکاوٹ کا سبب ہے، اسی طرح بیوی کا اپنے رشتہ داروں کے ساتھ شوہر کی باتوں کو زیر بحث لا کر اس کا مذاق اڑانا اور استہزاء کرنا انتہائی درجہ نامناسب اور غیر شرعی طرز عمل ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہو رہی ہے، اس لئے اسے چاہیئے کہ سائل کے ساتھ شادی کرنے کے بعد اب اس رشتہ کے تمام حقوق اور بنیادی امور کو پورا کرنے کا اہتمام کرے، اور اب تک شوہر کے حقوق کی ادائیگی میں جو کوتاہی ہوئی، اس پر توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ سائل سے معافی بھی مانگے، اور آئندہ کے لئے اس طرز عمل سے مکمل اجتناب کرے۔
کما قال اللہ تعالی: ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ الآیۃ(سورۃ المائدۃ، آیت 3)۔
وفی التفسیر المظھری لمحمد ثناء اللہ المظھری: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ بالتنصيص على قواعد العقائد والتوقيف على اصول الشرائع من الفرائض والواجبات والسنن والآداب والحلال والحرام والمكروه وموجبات الفساد لما له وجود شرعى كالصلوة والصوم والبيع ونحوها وقوانين الاجتهاد فيما لا نص فيه الخ(سورۃ المائدۃ، ج 3، ص 24، ط: مکتبۃ الرشدیۃ)۔
وفی مشکاۃ المصابیح: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمر أحداً أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها» . رواه الترمذي"(باب عشرۃ النساء، ج 2، ص 281، ط: قدیمی)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: و إنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي، فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير أو الأم إذا تزوجت بعم الصغير لا يبطل حقهاالخ ( الباب السادس عشر في الحضانة، ج 2، ص 544، ط : ماجدیۃ)۔