سوال یہ ہے کہ میرے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے، میرے چار بچے ہیں ، تین بیٹیاں ور ایک بیٹا ہے ، بڑی بیٹی کی عمر 13 سال ہے، میرے سسر حیات ہیں اور وہ 80 سال سے زیادہ عمر کے ہیں، ساس وفات پا چکی ہے، دو جیٹھ ہیں ، جوائنٹ فیملی میں رہتی ہوں، مالی طور پر میں اور میرا میکہ کمزور نہیں ہے، لیکن میں جاننا چاہتی ہوں کہ مجھے اللہ کی طرف سے کہاں رہنے کا حکم ہے؟
شوہر کے انتقال کے بعد بیوی کو عدت کے ایام تو شوہر کے گھر پر ہی گزار نا شرعاً لازم اور ضروری ہے، لہذا سائلہ کی عدت ابھی تک مکمل نہ ہوئی ہو تو اسے اپنی عدت شوہر کے گھر مکمل کرنا لازم ہے، البتہ ایام عدت گزر جانے کے بعد وہ سسرال میں رہنے کی پابند نہیں بلکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہے، لہذا سے اپنی اور بچوں کی تربیت و سہولت کی خاطر وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے میکہ ، سسرال یا کسی تیسری جگہ رہائش رکھنے کا اختیار ہے، تاہم سسرال میں رہتے ہوئے جیٹھ وغیرہ چونکہ سائلہ کے حق میں اجنبی اور نامحرم ہیں، اس لئے وہاں رہائش اختیار کرنے کے صورت میں سائلہ پر ان سے مکمل پردے کا اہتمام کرنا ضروری ہوگا اور اگر وہاں جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے کی صورت میں سائلہ کے لئے پردہ شرعیہ کا اہتمام ممکن نہ ہو یا اس میں مشکل پیش آرہی ہو، تو ایسی صورت میں سائلہ کو میکہ یا کسی تیسری جگہ اپنے بچوں کے ساتھ رہائش اختیار کرنے کا اہتمام چا ہئیے۔
کما فی الصحیح للبخاری: عن عقبة بن عامر : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إياكم والدخول على النساء. فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو؟ قال: الحمو الموت.» (رقم 5232، ج 7 ، ص 37، ط: السلطانیۃ)۔
وفی شرح النووی علی مسلم: (الحمو الموت) (الی قولہ) والمراد بالحموهنا أقارب الزوج غير آبائه وأبنائه فأما الآباء والأبناء فمحارم لزوجته تجوزلهم الخلوة بها ولايوصفون بالموت وانما المراد الأخ وبن الأخ والعم وابنه ونحوهم ممن ليس بمحرم وعادة الناس المساهلة فيه ويخلو بامرأة أخيه فهذا هو الموت وهو أولى بالمنع من الأجنبي لماذكرناه الخ (باب تحريم الخلوة بالأجنبية والدخول عليها، ج14، ص 153، ط: دار احیاء التراث)۔
و فی الہندیۃ: وعلى المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والمو ت" لقوله تعالى {لا تخرجوهن من بيوتهن} والبيت المضاف إليها هو البيت الذي تسكنه ولهذا لو زارت أهلها وطلقها زوجها كان عليها أن تعود إلى منزلها فتعتد فيه الخ (باب العدۃ، ج2، ص 279، ط: ماجدیۃ)۔